اسلام آباد(نیوزڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے قائدوسابق وزیراعظم نوازشریف کی ستمبر میں ممکنہ وطن واپسی کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں ہورہی ہیں ،ن لیگ کے رہنما جہاں سیاسی صورتحال اور آئندہ الیکشن میں پارٹی کی فتح یقینی بنانے کے لئے نوازشریف کی ملک واپسی کو سیاسی مجبوری سے جوڑ رہے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں وچہ مگوئیوں کی بھرمار ہے،نوازشریف کے مخالفین کے مطابق برطانوی عدالت نے نوازشریف کے مزید قیام کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے بعد وہ 25ستمبر کے بعد قیام نہیں کرسکیں گے۔شریف خاندان کے خلاف مقدمات کی پیروی کے حوالے سے شہرت رکھنے والے ممتازقانون دان ایم اظہرصدیق نے ٹویٹ کیا کہ نوازشریف کی مجبوراً 25ستمبر سے قبل متوقع روانگی، چھ ماہ قبل ویزاتوسیع کی درخواست پہلے ہی مسترد ہوچکی ہے۔ حیدرجاویدنامی ایک اورصارف نے لکھاکہ نواز شریف کی برطانوی عدالت میں تمام اپیلیں خارج ،عدالت نے 25 ستمبر تک برطانیہ چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔تاہم نوازشریف کے حامیوں کا اصرار ہے کہ اب وہ صحت یاب ہوچکےہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں سفرکی اجازت دے دی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے گزشتہ سال اگست میں برطانوی ہوم آفس نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ نواز شریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ہے اور اپیل پر فیصلہ ہونے تک وہ برطانیہ میں قانونی طور پر مقیم رہ سکیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے برطانیہ میں ہی قیام کریں گے۔ جب تک ان کا علاج نہیں ہو جاتا اور ڈاکٹرز انہیں اجازت نہیں دیتے، وہ وہیں رہیں گے۔یاد رہے کہ نواز شریف عدالتوں سے طبی بنیاد پر ضمانت کے بعد 19 نومبر 2019 سے علاج کے لیے لندن میں مقیم ہیں۔اکتوبر 2019 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو 8 ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور وہ علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔پی ٹی آئی حکومت نے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کی غرض سے ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ اسے قبل 21 اکتوبر کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو صحت کی تشویش ناک صورت حال کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز تھے بعدازاں اس بورڈ میں مزید ڈاکٹروں اور ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔ میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کی تھی اور بتایا تھا کہ انہیں خلیات بنانے کے نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے تاہم ڈاکٹر طاہر شمسی نے مزید تفصیلات فرہم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے، ان کی بیماری کا نام ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) ہے جو قابلِ علاج ہے۔دوسری جانب ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے 24 اکتوبر 2019 کو العزیزیہ ریفرنس میں ان کی طبی بنیادوں پر ان کی سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جبکہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی حالت تشویشناک ہے جبکہ نیب نے بھی علاج کی صورت میں بیرونِ ملک روانگی سے متعلق مثبت رد عمل ظاہر کیا تھا جس پر عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانت مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی 26 اکتوبر 2019 کو العزیزیہ ریفرنس میں 3 روز کی ضمانت منظور کرلی تھی جس کی 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا گیا تھا جبکہ مزید مہلت کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔بعدازاں 5 نومبر کو صحت بہتر ہونے کے بعد نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی اور وہ 6 نومبر کو اپنی رہائش گاہ جاتی امرا روانہ ہوئے جہاں انہیں گھر میں قائم آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔صحت کے حوالے سے ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت میں بہتری ہے تاہم پلیٹلیٹس میں بار بار کمی کے دیگر اسباب جاننے کے لیے جینٹیک ٹیسٹ ضروری ہیں جو پاکستان میں ممکن نہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف بیرون ملک سفر کرسکتے ہیں۔ عدالتوں سے ریلیف ملنے کے بعد سابق وزیراعظم کا نام سفری پابندی کی فہرست ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ درپیش تھا جس کے لیے شہباز شریف نے 8 نومبر کو وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی جس نے نیب کی رضامندی طلب کی تھی۔ بعدازاں 11 نومبر کو وزارت داخلہ کے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور اسی دن نوٹس جاری کیا گیا، 12 تاریخ کو کابینہ کو بریفنگ دی اور انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کیاجس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کروانے تھے۔ تاہم حکومت کی جانب سے عائد کی گئی شرط پر بیرونِ ملک سفر کی پیش کش کو قائد مسلم لیگ (ن) نے مسترد کردیا تھا۔ اسی دوران شہباز شریف نے 14 نومبر کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سےنواز شریف کا نام ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط رکھی جا رہی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔بعدازاں اگلے ہی سماعت میں عدالت نے شہباز شریف سے سابق وزیراعظم کی واپسی سے متعلق تحریری حلف نامہ طلب کیا اور اس کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔
نوازشریف کی ستمبر میں ممکنہ وطن واپسی کی اصل وجہ کیا؟








