بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میں بھی بغاوت کا مقدمہ بھگت رہا ہوں، شور نہیں مچایا، خواجہ آصف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں بھی بغاوت کا مقدمہ بھگت رہا ہوں میں نے کوئی شور نہیں مچایا،وقت آگیا ہے کہ سیاستدان کسی کا کندھا پکڑنے کے بجائے اپنی لڑائیاں خود لڑیں، میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے معاملہ پروفاق اور پنجاب حکومت آمنے سامنے دکھائی دیئے،وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے جب بیان دیا اس وقت ایک باوردی شخص حکومت اور سیاست کررہا تھا، پرویز مشرف نے اپنی پارٹی ق لیگ بنائی ہوئی تھی، اس شخص نے سیاسی پارٹیاں تشکیل دی تھیں اور انہیں سپورٹ کررہا تھا، میری بات کو سیاسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ اس وقت پرویز مشرف کیا کررہے تھے، جنرل پرویز مشرف نے نو سال سیاست کی میں ان کا سیاسی مخالف تھا، میں اس وقت اپنے سیاسی مخالف کیخلاف بات کررہا تھا، پرویز مشرف کا سیاسی حلقہ اول و آخر پاکستان فوج تھی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں خود سیاسی کارکن اور ایک سیاسی کارکن کا بیٹا ہوں، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں میرے والد کا نام پاکستان توڑنے والوں کی فہرست میں نہیں ہے، رپورٹ میں جن لوگوں کا نام پاکستان توڑنے والوں میں شامل ہے ان کی اولاد کو مجھ پر اٹیک کرنے کا حق نہیں ہے، جنرل غلام عمر، جنرل یحییٰ خان اور ایس ای ایم پیرزادہ کا کردار اپنے اداروں کیلئے برے الفاظ کے ساتھ یا دکیا جائے گا، جنرل غلام عمر، اسد عمر کے ساتھ محمد زبیر کے بھی والد تھے لیکن میں سیاسی بات کررہا ہوں، میں نے اسمبلی میں معافی مانگی کہ میرے والد کی جنرل ضیاء سے وابستگی درست نہیں تھی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میں بھی بغاوت کا مقدمہ بھگت رہا ہوں میں نے کوئی شور نہیں مچایا میرے ساتھ ظلم ہوا، عمران خان اور اس کے ساتھیوں کا رونا دھونا سیاست ہے، عمران خان اور اس کے ساتھی اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں، جو الفاظ شہباز گل نے ادا کیے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، لسبیلہ حادثے پر پی ٹی آئی نے بھارت کے ساتھ مل کر ٹرینڈ چلایا اور ٹرولنگ کی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے شہباز گل کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کرنے میں پانچ چھ دن انتظار کیا اس سے ان کی نیت پتا لگ جاتی ہے،عمران خان فارن فنڈنگ کیس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں، عمران خا ن نے لوگوں کی زکوٰۃ و خیرات کا پیسہ سیاست پر لگایا ہوا ہے، عمران خان نے پاک فوج کیخلاف ہندوستان اور برطانیہ میں تقاریر کیں، ہمیں فوج اور عدلیہ جیسے اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہئے،وقت آگیا ہے کہ سیاستدان کسی کا کندھا پکڑنے کے بجائے اپنی لڑائیاں خود لڑیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی ہے تو عمران خان اسے نیوٹرل رہنے دیں، فوج اور عدلیہ آئینی کردار ادا کریں سیاستدان ان اداروں کے تقدس کی حفاظت کریں، شہباز گل پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہونا چاہئے، شہباز گل وزیراعظم یا ہماری حکومت کوگالیاں دیدیتے ادارے کو ٹارگٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی، عمران خا ن نے بھی تسلیم کیا کہ شہباز گل نے فوج میں بغاوت پر اکسایا، پی ٹی آئی میں عمران خان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا، شہباز گل کا بیان اور شہداء کی توہین ایک اسکرپٹ کا حصہ ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لسبیلہ حادثے پر ٹرولنگ میں بھارت کے 18اکاؤنٹس شامل تھے، شہباز گل کے ڈرائیور کی بیوی کو غلط گرفتار کیا گیا، مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے گرفتار کیاگیا اس پر کسی کو در دنہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں نواز شریف کسی غیریقینی صورتحال میں پاکستان واپس نہ آئیں، نواز شریف کے ساتھ ظلم کا ازالہ کرنے کیلئے قانون تیار ہونا چاہئے، نواز شریف کا وطن واپس آنا ہماری سیاسی ضرورت بھی ہے، نواز شریف کی سیاست آج بھی رواداری پر قائم ہے، نواز شریف گروہی یا افرادکی نہیں پاکستان کی سیاست کررہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی میں اندرونی اختلافات ہیں انہیں دور کرلیں گے، مہینے ڈیڑھ مہینے میں جو معاشی صورتحال بنے گی وہ تناؤ کو کم کردے گی۔نمائندہ خصوصی جیو نیوز اعزاز سید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ اور پنجاب پولیس شہباز گل کی اسلام آباد پولیس کو حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں تھی، وزارت داخلہ کی طرف سے رینجرز اور ایف سی کو اسلا م آباد پولیس کی معاونت کیلئے بھیجے جانے کی اطلاع کے بعد شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا گیا، شہباز گل کو پہلے میڈیکل کیلئے پمز اسپتال لے جایا جائے گا، عمران خا ن کی طرف سے براہ راست جیل انتظامیہ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ کسی نہ کسی طرح اسپتال منتقل کردیا جائے، آج صبح واضح ہوجائے گا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے یا نہیں ہوا اور کیا وہ واقعی کھانسی اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔