اسلام آباد(نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے ملاقات کیلئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) پہنچے تاہم انہیں شہباز گل سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
عمران خان کی آمد کے موقع پر پمز اسپتال میں سکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی تھی اورسابق وزیراعظم کارڈیالوجی وارڈ کے باہر ملاقات کیلئے اپنی گاڑی میں ہی انتظار کرتے رہے تاہم پولیس کی جانب سے انہیں شہباز گل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور عدالت سے اجازت حاصل کرنے کا کہا گیا۔
عمران خان نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد میڈیا سے مختصر بات کی اور واپس روانہ ہوگئے۔ اس دوران کارڈیالوجی وارڈ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود رہی۔
اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پولیس نےمیراراستہ روکا، اور شہبازگل سے نہیں ملنے دیا گیا۔ کل اسلام آباد میں شہبازگل سے اظہاریکجہتی کی ریلی نکالوں گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسا تشدد سیاسی ورکر پر ہو سکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے، کیا یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ پولیس کس سے احکامات لےرہی ہے، کیا پولیس کو عدالتی احکامات کی کوئی فکرنہیں، یہاں قانون کی حکمرانی ہے یا ڈنڈے کی۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں اور ہسپتال پراضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق عوام یا کوئی بھی شخص ملاقات کی کوشش کرکے امن وامان کی صورتحال پیدا نہ کرے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے اسپتال میں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا ہے، ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہے اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق کسی بھی لا اینڈ آرڈرکی صورتحال بننے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔









