کابل(نیوزڈیسک) افغان طالبان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ جس پڑوسی ملک نے 31 جولائی کو کابل میں (القاعدہ سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری پر) حملے کے لیے امریکی ڈرون طیارے کو اپنی فضا ئی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔
طالبان کے متعدد ارکان اور اس گروپ کی حمایت کرنے والے علما نے جمعرات کو قندھار میں ’ملک کے عمومی مسائل‘ پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجتماع منعقد کیا۔
اس اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں کسی ملک کا نام لیے بغیر امریکی ڈرون طیارے کو اپنی فضا استعمال کرنے کی اجازت دینے والے ’پڑوسی ملک‘ کو ’اس جرم میں برابر کا شریک‘ قرار دیا۔
طالبان کے زیر کنٹرول میڈیا باختر نیوز ایجنسی نے اس اجلاس میں شرکا ئ کی تعداد تقریباً تین ہزار بتائی اور رپورٹ کیا کہ اس میں طالبان کابینہ کے ارکان، علما، تاجر، سول کارکن اور بعض سابق افغان حکومتی ملازمین موجود تھے۔
قرار داد میں ہمسایہ ملک کے اس عمل کو ’ہمسائیگی اور اسلام کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ اس ملک کے حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ افغانستان پر سودے بازی اور افغانستان کے دشمنوں کو افغانستان کے خلاف اپنی زمین اور فضا استعمال کرنے کی اجازت دینے کے نتائج ان کے حق میں برے ہوں گے۔
ایک دوسری قرارداد میں شرکانے امریکہ کی جانب سے 31 جولائی کو کابل کے گنجان آباد علاقے میں کیے جانے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہم اس حملے کو دوحہ معاہدے اور عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزی، افغانستان کے سرحدی حدود کی پامالی اور اور ایک دہشت گردانہ عمل سمجھتے ہیں۔
طالبان نے اس کانفرنس کے اصل مقاصد کی وضاحت نہیں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں کی جانے والی تقاریر میں عمومی طور پر عام مسائل پر بات کی گئی۔ زیادہ تر مقررین نے طالبان کی امارت کو دنیا سے تسلیم کروانا چاہا اور طالبان کی ایک سال کی کارکردگی کو سراہا۔
اس ملاقات میں طالبان کے وزیر برائے خیر و ممانعت شیخ محمد خالد حنفی نے کہا کہ طالبان کی امارت کے جواز کی بنیاد علما اور قبائلی رہنماؤں کی حمایت ہے، جو کہ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’قانونیت کا کیا مطلب ہے؟ کابل میں ہزاروں علما، قبائلی رہنما، بااثر افراد اور تاجروں نے امیر المومنین کی بیعت اور حمایت کا اعلان کیا۔
حنفی نے مزید کہا کہ افغانستان پر طالبان کی حکمرانی کے ساتھ ہی انتظامی بدعنوانی کا خاتمہ ہوا اور سلامتی قائم ہوگئی۔ ان کا اصرار تھا کہ معیشت اور دیگر معاملات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔
قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی دنیا بھر میں ’بہتر‘ انداز میں نمائندگی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کوئی افغانوں کا امتحان نہ لے۔ افغان کے ان غریب اور قابل فخر لوگوں کو خوشی سے رہنے دو۔
امیر متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ 20 سال کی جنگ کے بعد کچھ ممالک کے ساتھ تعلقات جلد معمول پر آجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان عالمی طاقتوں کے درمیان تنازع نہیں بنے گا اور افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
اس اجلاس میں کئی دیگر شرکا نے بھی سکیورٹی کے شعبے میں طالبان کی کارکردگی کو سراہا اور اسے ملکی اور غیرملکی تاجروں کی سرمایہ کاری میں اضافے کی بنیاد قرار دیا۔
ایمن الظواہری ڈرون حملے کا سہولت کار ملک بھی برابر کا شریک،افغان طالبان








