بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ن لیگ کا اجلاس : ارکان اسمبلی کے سوالات وزیراعظم شہباز شریف کی وضاحتیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) میں ارکان اسمبلی کا ایک گروپ وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے سوالات اٹھاتا رہا۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو ارکان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم نے خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ کو کہا کہ آپ ارکان اسمبلی کو بتائیں کہ ہم نے حکومت کیوں لی، دونوں وفاقی وزرا ارکان کو مطمئن
کرنے میں ناکام رہے جس پر وزیر اعظم نے خود مائیک سنبھال لیا اور طویل گفتگو کی جس میں انہوں نے دلائل اور وجوہات پیش کیں کہ ن لیگ کے لئے اقدار لیتا کیوں نا گزیر ہو چکا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ارکان اسمبلی کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نہ لیتے تو آج ہم سب جیلوں میں ہوتے کیونکہ عمران خان نے لوئر کورٹ کے ججوں کو ہائی کورٹ کے ججوں کے اختیارات دیر میں سزائیں دلوانے کی منصوبہ بندی کر لی تھی، اس طرح عمران خان آئندہ پانچ سال
کے لئے وزیراعظم بن جاتے اور مسلم لیگ ن 10 سال کے لئے اقتدار سے آؤٹ ہوجاتی ، پھر شاید ہم بھی بھی حکومت میں نہ آتے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میرے اوپر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، اپنے اوپر تنقید بڑے گل اور صبر سے سنتا رہتا ہوں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان اس ملک میں ون مین شو قائم کرنا چاہتے تھے، جس کے لئے انہوں نے اتحادیوں سے مل کر حکمت عملی تیار کر لی تھی ، ن لیگ کو ہمیشہ کے لئے اقتدار سے آؤٹ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جسے نواز شریف کی اجازت اور مشاورت سے کا ونٹر کیا گیا، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے، یہ آپ اور میرے قائد نواز شریف کا کریڈٹ ہے، ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے ن لیگ کی تمام ٹاپ لیڈرشپ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور میں جیلوں میں ڈالا | گیا مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کوٹارگٹ کیا جارہا تھا، پارٹی توڑنے کی کوششیں بھی کی گئیں، پیرو مخصوص حالات تھے کہ میں مشکل فیصلہ کرنا پڑا ہم نے نہ صرف ملک بچایا بلکہ پارٹی اور اپنی سیاست بھی پائی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی طویل اور بیل گفتگو کے بعد خاموشی چھائی اورکسی رکن اسمبلی نے مزید کوئی سوال و جواب نہیں کیا سوالات کرنیوالے ارکان مریم نواز کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔