بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اس وقت سب سے بڑا چیلنج سیلاب زدگان کی بحالی ہے ، سپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے صدر آئی پی یو نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی ،ملاقات میں آئی پی یو ایشیاء پیسیفک ریجن کے رکن ممالک پر مشتمل دو روز سیمینار سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سپیکر نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول پر ایشیا پیسفک خطے کے تیسرے علاقائی سیمینار میں شرکت پر صدر آئی پی یو کا خیر مقدم کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان تاریخ کی بدترین موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کا سامنا کر رہا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی شدت ناقابل تصور تھی، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ پیدا ہونے والی مضر اثرات میں حصہ دار نہیں ہے، اسپیکرقومی اسمبلی نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے زیادہ کاربن کے اخراج سے پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو تمام بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی مسئلے کے مناسب اور بروقت حل کے لیے عالمی حمایت اور تعاون کی ضرورت ہے،پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج سیلاب سے متاثرہ عوام کی صحت اور بحالی ہے، آئی پی یو سیلاب زدہ علاقوں میں معمولات زندگی کی بحالی اور چیلنج پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد، پاکستان اس آفت کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن عالمی برادری کی بھرپور حمایت کے بغیر نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔
صدر آئی پی یو نے طوفانی بارشوں اور فلڈ کے نتیجے میں پاکستانی عوام کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے اسپیکر قومی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول پر ایشیا پیسیفک خطے کے تیسرے آئی پی یو کے علاقائی سیمینار کے انعقاد میں اسپیکر کی گہری دلچسپی قابل ستائش ہے، صدر آئی پی یو نے کہا کہ آئی یو ایشیاء پیسیفک کا دو روزہ سیمینار ملک کے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے اہم پیشرف ثابت ہوگا، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی، تجارت اور سیاحت میں پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے ذریعے باقاعدہ تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے پر زوردیا۔صدر آئی پی یو نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پارلیمانی سفارتکاری انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی،