اسلام آباد(ممتازنیوز) وفاقی وزیرِ برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا ہے کہ موسم تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تیاری کرنا ہوگی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب سے تباہ کاری ہوئی ہے، موسمی تبدیلیوں کے تباہ کاریوں سے کوئی ملک بچ نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہ کاریوں کا آنکھوں دیکھا حال بیان نہیں کرسکتی، جن ملکوں کا موسمیاتی تبدیلی میں حصہ نہیں اس کا سب سے زیادہ نقصان ان کا ہوا لیکن دنیا کی توجہ بلآخر پاکستان کی طرف آئی ہے۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان تشریف لائے جبکہ بین الاقوامی ادارے ہماری مدد کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات سنگین ہیں، بلوچستان کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ تین کروڑ تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور بہت بڑا مرحلہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا ہے۔
شازیہ مری کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج بھی پانی کھڑا ہے اس کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں، بے زبان جانور بھی مر رہے ہیں لیکن کسی بھی صوبائی حکومت کی اتنی کیپسیٹی نہیں کہ سنبھال سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے وفاقی حکومت ساتھ دے رہی ہے، موسم تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تیاری کرنا ہوگی۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو اب بھی ٹینٹس کی ضرورت ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے فی خاندان کو دے رہے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ 25 اعشاریہ 49 ارب روپے 10 لاکھ 21 ہزار سیلاب متاثرین کو تقسیم کرچکے ہیں جبکہ 25 ہزار روپے میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہے اور اگر کسی نے 25 ہزار روپے میں سے کسی نے کٹوتی کی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔









