بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

متضاد بیانات، ملکی سیاست میں پی ٹی آئی اپنے بیانیہ پر کنفیوژن کا شکار

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک ) متضاد بیانات کی وجہ سےملکی سیاست میں پی ٹی آئی اپنے بیانیہ پر کنفیوژن سے دوچار ہوگئی ہے۔

ایک جانب پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کا جارحانہ رویہ ہے اور دوسری جانب ان کے پارٹی کے اندر مفاہمت پسند دھڑا ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے خلاف ہے۔

عمران خان کریز سے باہر نکل کر شاٹس کھیل رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس جارحانہ انداز سے اسٹیبلشمنٹ کو دبائو کا شکار کرنے میں کا میاب ہوجائیں گے اور اپنی شرائط منوالیں گے لیکن ان کی پارٹی کے مفاہمت اور عملیت پسند رہنما سمجھتے ہیں کہ عمران خان با ر بار اسٹیبلشمنٹ پر وار کرکے نہ صرف اپنے لئے بلکہ پارٹی کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سنجیدہ رہنما عمران خان کے انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کی تائید میں بیانات سے گریز کر رہے ہیں اور خاموش رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں پھر کہا ہے کہ قوم حتمی کال کی تیاری کرے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک کا ٹیمپو ٹوٹ چکا ہے اور وہ فائنل کال دینے کا رسک لینے کی پو زیشن میں نہیں ہیں۔اس موقع پر فائنل کال ایک ایسا جوا ہوگا جس میں وہ ہار سکتے ہیں ۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں نئی لائن لی ہے کہ ہمیں سول ملٹری تعلقات میں توازن کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔پاور پا کستان کے عوام کو ٹرانسفر ہونی چاہئے ۔

انہوں نے سیا سی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر زور دیا ہے کہ ہمیں سیا سی فریم ورک دو بارہ تحریر کرنا چاہئے ۔ ہمیں رولز آف گیم پر اتفاق رائے کرنا چاہئے ۔مو جودہ نظام ناکام ہوچکا ہے۔ ہمیں منصفانہ رولز کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک جانب عمران خان اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگا رہے ہیں اور موجودہ حکومت سے بات کرنے کو خارج ازامکان قرار دے رہے ہیںاور دوسری جانب ان کے پارٹی رہنما فواد چوہدری اسٹیبلشمنٹ اور سیا سی جماعتوں سے ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں ۔

حکومت سے ڈائیلاگ کیلئے تو پھر عمران خان کو پہلے حکومت کو تسلیم کرنا پڑےگا تبھی وہ ان کے ساتھ بیٹھ سکیں گے۔جب تک پی ٹی آئی اپنے بیانیہ کے کنفیوژن سے نہیں نکلے گی اور بیانیہ میں یکسو اور واضح نہیں ہوگی اس وقت تک عملی سیا سی پیش رفت ممکن نہیں ۔

عمران خان ضد اور الزامات کی سیا ست سے نکلیں اور سیاسی بصیرت اور حکمت و دانائی کا راستہ اپنائیں ۔