اسلام آباد(ممتاز نیوز) سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نئے نیب قانون کے تحت بڑا ریلیف حاصل کر لیا، اسلام آباد احتساب عدالت نے یو ایس ایف فنڈز میں کرپشن کیس ریفرنس واپس نیب کو بھیج دیا گیا، عدالت نے کہا کہ ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتاہے، ریفرنس میں یوسف رضا گیلانی کے علاوہ شامل دیگر افراد پر بھی کیس خارج کر دیا۔ بدھ کو اسلام آباد احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف کرپشن ریفرنس کیس کی سماعت ہو ئی، سماعت میں اسلام آباداحتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈز میں کرپشن کیس ریفرنس واپس لے لیا گیا،اسلام آبادحتساب عدالت کے اعظم خان نے ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا۔ جج اعظم خان نے کہا کہ ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتاہے، ریفرنس واپس ہونے سے کیس میں شامل تمام سرکاری افسران کا بڑا ریلیف مل گیا ہے، ریفرنس میں یوسف رضا گیلانی کے علاوہ شامل دیگر افراد میں سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر محمد سلیم، سابق سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی فاروق اعوان، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) ریاض اشعر صدیقی، سابق کمپنی سیکرٹری یو ایس ایف سید حسن شکوہ، چیف ایگزیکٹو آفیسر میڈاس انعام اکبر اور سابق پرسنل اسسٹنٹ برائے پبلک ریلیشنز آفیسر آئی ٹی محمد حنیف شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 06 ستمبر 2018 کو نیب راولپنڈی نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی و دیگر کے خلاف مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے میڈاس پرائیوٹ لمیٹڈ کے ذریعے غیر قانونی اشتہاری مہم چلانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر کرپشن کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ میڈاس پرائیوٹ لمیٹڈ لاہور میں مقیم ایک اشتہاری ایجنسی ہے جس کے پاس تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی تشہیر کا کنٹریکٹ ہے۔ریفرنس میں بتایا گیا تھاکہ یونیورسل سروس فنڈ کے 26ویں اجلاس میں 28 دسمبر 2011 کو ملزم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چیئرمین یونیورسل سروس فنڈ بورڈ کی حیثیت سے یو ایس ایف کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کیلئے میڈیا مہم چلانے کی ہدایت کی تھی۔اس کے علاوہ سابق سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے غیر قانونی اشتہاری مہم کے ذریعے قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر میڈاس نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور یونیورسل سروس فنڈ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تحریری ریلیز آرڈر حاصل کیے بغیر الیکٹرانک میڈیا مہم چلائی اور ادائیگی کیلئے بل پیش کئے۔عدالت میں دائر ریفرنس کے مطابق میڈیا مہم کا ٹھیکہ دینے کیلئے کوئی باضابطہ بولی نہیں ہوئی جو کہ مکمل طور پر پیپرا رولز اور وزارت انفارمیشن براڈ کاسٹنگ اور پی آئی ڈی کی پالیسی کے خلاف تھا۔ریفرنس کے حوالے سے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس پر ابتدائی سماعت 7ستمبرکو کی تھی جس کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت 7 افراد کو 26 ستمبر 2018 کو طلب کیا تھا، احتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج محمد بشیر نے ریفرنس سماعت کے لیے عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کو بھجوایا، جس پر ابتدائی سماعت کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت 7 نامزد ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے۔اسد
یوسف رضا گیلانی نے نئے نیب قانون کے تحت بڑا ریلیف حاصل کر لیا








