اسلام آباد(ممتازنیوز) حکمراں اتحادنے کسی صورت اسلام آباد پرچڑھائی کی اجازت نہ دینے کافیصلہ کرتے ہوئے وزیرداخلہ راناثنااللہ کو پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ سےسختی سے نمٹنے کااختیاردے دیا جبکہ یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے ،اس حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،اتحادیوں نے سائفرکے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی حمایت کی ، اجلاس میں افواج پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کی شدید مذمت بھی کی گئی ۔بدھ وزیراعظم ہاؤس میں پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہواجس کی صدارت وزیراعظم شہبازشریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مشترکہ طور پر کیا،اجلاس میں ملک کی سیاسی ومعاشی صورتحال،سائفر اور آڈیولیکس کے معاملات پر غورکیا گیا جبکہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کسی صورت اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی،اس حوالے سے وزیرداخلہ راناثنااللہ کو اختیاردیاگیا کہ وہ جس طرح کی چاہیں حکمت عملی بنائیں اور لانگ مارچ سے سختی سے نمٹیں۔ وزیراعظم نے آڈیو لیکس اور سائفر معاملے پر وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سائفر معاملہ پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہوگی ،پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا ۔اتحادیوں نے سائفرمعاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی حمایت کی۔ اجلاس میں کہاگیاکہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے،اس حوالے سے کوئی دباؤقبول نہیں کیا جائے گا ۔اجلاس کے دوران افواج پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کی شدید مذمت کی گئی۔ پی ڈی ایم کے قائدین کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اقتدار کی ہوس ہے ، ریاستی اداروں اور دفاعی قیادت کو ہدف بنانا افسوسناک ہے۔ نئے آرمی چیف کی تقرری پر مشاورت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے لئے وزیراعظم آئین اور قانون کے مطابق اختیارات استعمال کریں گے۔









