ممبئی:برصغیر کے نامور غزل گا ئیک اور موسیقار جگجیت سنگھ کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 11 برس کا عرصہ بیت گیا،لیکن ان کی گائیکی کا منفرد انداز اور سریلی آواز آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے۔
انڈیا ٹائمز کے مطابق بھارتی معروف موسیقار جگجیت سنگھ 8 فروری 1941 ءکو ریاست راجستھان کے چھو ٹے سے علاقے شری گنگا نگر میں پنجابی گھر میں پیدا ہوئے ۔ جگجیت نے اردو کے مشہور شاعر غالب کی نظموں کو جلا بخشی اورانہیں ترنم کے ساتھ غزل کی صورت گایا۔جگجیت سنگھ نے 1966ءمیں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا جبکہ انکو شہرت صحیح معنوں میں 70 کی دہائی میں ملی۔ جگجیت سنگھ نے اردو، ہندی پنجابی، گجراتی، سندھی اور نیپالی زبانوں کے علاوہ فلموں کے لیے بھی بے شمار گیت گائے۔جگجیت سنگھ نے اپنی اہلیہ اور معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کے ساتھ کئی لازوال گیت گائے مگر گلزار کی ٹی وی سیریز “مرزا غالب” کی موسیقی نے انہیں شہرت کی انچائی تک پہنچا دیا۔ جگجیت سنگھ کو بڑی کامیابی اپنی البم”دی اَن فور گیٹ ایبلز”سے ملی جس میں ان کی بیوی اور نامور گلوکارہ چترا سنگھ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔
بھارتی حکومت کی جانب سے آپ کو 2003 میں سرکاری ایوارڈ سے نوازا گیا۔جبکہ 2012 میں راجستھان کی حکومت نے بھی انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سب سے بڑے اعزاز راجستھان رتنا آپ کے نام کیا۔جگجیت سنگھ نے اکلوتے بیٹے کی حادثاتی موت کے بعد ایک غزل “چٹھی نہ کوئی سندیس”‘ پڑھی جسے مداحوں نے بے حد پسند کیااور پھر اس کو بالی ووڈ فلم “دشمن” میں شامل کیا گیا۔
مشہور غزل گائیک جگجیت سنگھ10اکتوبر 2011 کوطویل علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئےاورمداحوں کے دلوں میں ایسے زخم چھوڑ گئے جسے آئندہ آنے والے کئی سالوں تک بھرنا ناممکن ہے۔









