کراچی (نیوز ڈیسک) اربوں روپے کی منشیات اسمگلنگ میں ملوث سابق ممبر کسٹمز کے بیٹے کو ملک سے فرار کرانے کے اسیکنڈل کا انکشاف ، کسٹمز ذرائع کے مطابق انویسٹی گیشن افسران نے دانستہ پہلی ایف آئی آر میں ایکسپورٹر کا نام شامل کرنے کی بجائے کلیئرنگ ایجنٹ اور ایکسپورٹر کے ملازم کا نام شامل کیا لیکن مرکزی ملزم کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ جنگ کی حاصل معلومات کے مطابق یکم جولائی کو کلکٹریٹ آف کسٹمز ایکسپورٹ کراچی نے آسٹریلیا کے شہر ملبورن کے لئے جمع کرائی جانے والی کیوٹینٹی (Qtinity) کمپنی کی ایک جی ڈی جمع کرائی گئی جس ہمالیہ پنک سالٹ کی ایکسپورٹ ظاہر کی گئی تھی ، آسٹریلیا جیسے اہم ملک کی وجہ سےکنسائمنٹ کو یلیو مارک کرتے ہوئے اس کی ایگزامینیشن کی تو ہمالیہ پنک سالٹ کے سیکڑوں پاؤچ میں سے 165پاؤچ ایسے نکلے جن میں نمک کی بجائے آئس (Amphetamine) تھی ان پاؤچ کا مجموعی وزن 47؍ کلو گرام تھا ،کسٹمز نے منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج کرتے ہوئے کلیئرنس ایجنٹ طہ حسین ، کوئٹہ کے رہائشی اور ایکسپورٹر کے پارٹنر فدا محمد کو تو گرفتار کر لیا لیکن مرکزی ملزم حمیر قریشی ولد منیر قریشی کا نام ایف آئی آر میں ہی درج نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نام شامل نہ کرنے کی ہدایت اس وقت کے ممبر کسٹمز نے دی تھی ، کیس کی تفتیش آگے بڑھی تو پتہ چلا کی اسی کمپنی نے ایک 20؍ فٹ کا کنٹینر نیدرلینڈ کے لئے کلیئرنس کراکے بھیج دیا ہے جو کہ روٹر ڈیم پورٹ پر پہنچ چکا ہے تاہم ابھی کلیئر نہیں ہوا جس پر حکام میں کھلبلی مچ گئی کسٹمز حکام کی کوشش سے یہ کنٹینر واپس منگوایا گیا کراچی میں پورٹ قاسم پر ایک جائنٹ ٹیم نے اس کی ایگزمینیشن کی تو اس میں سے 3؍ ارب 80؍ کروڑ روپے مالیت کی 380؍ کلو گرام ہیروئین برآمد ہو ئی جس پر کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا تاہم اس دوران مرکزی ملزم بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم کو فرار کرانے میں ان کے والد کا مرکزی کردار ہے ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کسٹمز حکام نے انہیں فرار کا موقع فراہم کیا، اگرچہ اب کسٹمز ایکسپورٹ کراچی کی جانب سے انوسٹی گیشن آفسر پرنسپل اپریزر میراج محمد کی جانب سے جمع کرائے گئے عبوری چالان میں حمیر قریشی کا نام شامل کیا گیا ہے لیکن انھیں مفرور لکھا ہے ،تاہم انھیں مفر ور کرانے میں کون ملوث ہے اس پر کسٹمز حکام جواب دینے سے گریزاں ہیں۔ جنگ کے رابطہ کرنے پر کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت موجود تمام افسران کا تبادلہ ہو چکا ہے اس لیے وہ اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم اب تفتیش کے بعد ملزم کا نام چالان میں شامل کر دیا گیا ہے ۔
منشیات اسمگلنگ میں ملوث سابق ممبر کسٹمز کے بیٹے کو فرار کرانے کا اسیکنڈل








