لاہور(ممتازنیوز)پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے حکومت کو زرعی شعبے کی بہتری،خوراک میں خودکفالت اورآمدن بڑھانے کے لئے قابل عمل تجاویزدے دیں۔ایک بیان میں ڈاکٹر ابراہیم مغل نے وزیراعظم شہبازشریف،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر زراعت طارق بشیر چیمہ کو تجاویز دیتے کہاکہ کسان کو ڈی اے پی کی فی 50کلو کی بوری 6ہزاروپے میں ملنی چاہیے ،یوریا کی بوری کی قیمت 1700روپے کی جائے، ملک میں 10لاکھ ٹیوب ویلوں اور ٹریکٹر کےلئے کے لئے استعمال کیا جانے والا ڈیزل کا رنگ سرخ کردیا جائے تا کہ وہ کاروں اور ویگنوں میں استعمال نہ ہواور اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ 125روپے لیٹر کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ زرعی ادویات کی قیمتوں میں کم ازکم 35فیصد کمی کی جائے، زرعی ادویات جب کراچی اتریں تو وہاں ہی سیلز ٹیکس وغیر ہ لے لیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ زرعی پیداوار بڑھانے کےلئے 11ہل چلانا ہوگا،زمین میں ہارڈ پین بن گیا ہوا ہے،سبز چارہ یا سبز فصل اگا کر اسے زمین کے اندر روٹاویٹ کرنا ہوگاکیونکہ آگینامیٹک کی کمی ہے،پانی کی کمی کو پورا کرنے کےلئے لینڈ لیولر کا استعمال زیادہ کر دیا جائے ،گندم کی قیمت 3ہزار روپے من ، مونجی کے نرخ 2200روپے مقررکی جائے،باسمتی چاول 4500روپے من خریدا جائے، کپاس کا ریٹ 8سے 10ہزار روپے من کرنا ہوگا،گنے کے نرخ 400سے 450روپے من ہونے چاہئیں ۔ابراہیم مغل نے کہاکہ سورج مکھی اور کینولا کے ریٹ 8سے10ہزار روپے مقرر کئے جائیں،کینوکا ایک ایکڑپر تمام خرچے ملا کر کسان کا کم ازکم ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت ہونے سے کسان کو کچھ بچت ہوگی ،آم کم ازکم 150سے 200روپے کلوباغ سے خریدا جائے جو مارکیٹ میں 400روپے تک فروخت ہوتا ہے،آلو کے نرخ 4ہزارروپےبوری مقرر کردی جائے،پیاز کے نرخ 6ہزار روپے بوری مقرر کی جائے،دودھ کی خریداری کم ازکم 100روپے کلو ہونی چاہیے،چنے کی خریداری کم ازکم 6ہزار روپے من مقرر کی جائے،دال ماش اور دال مسور کے نرخ بھی کم ازکم 8سے 10ہزار روپے من مقرر کئے جائیں،سبزیوں کے ریٹ بھی مناسب مقرر کئے جائیں۔
ڈاکٹر ابراہیم مغل نے زرعی شعبے کی بہتری،خوراک میں خودکفالت ،آمدن میں اضافے کیلئے قابل عمل تجاویزدے دیں








