کراچی (نیوز ڈیسک) سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ ایک ماہ تک موخر کرنے کیلئے دبائو ڈالا تھا، اس اقدام کے نتیجے میں نومبر میں امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو جاتیں۔ منگل کو امریکی صدر کی جانب سے متنبہ کیے جانے کے بعد پہلے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ دبائو مسترد کرتے ہوئے تیل کی پیداوار میں کمی پر اصرار کیا۔ واشنگٹن کی جانب سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا کہ اس نے سعودی عرب پر دبائو ڈالا تھا۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا فیصلہ خالصتاً معاشی معاملات کو مد نظر رکھ کر کیا گیا تھا اور یہ امریکا کیخلاف سیاسی بنیادوں پر متحرک ہو کر نہیں کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ طلب و رسد میں توازن کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔ بیان کے مطابق، سعودی عرب کی یوکرین تنازع کے حوالے سے اپروچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بدقسمتی کی بات ہے، اور ایسی کوششوں سے سعودی عرب کا اصولی موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ وزارت خارجہ کے اس بیان سے واضح طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا نے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ ایک ماہ کیلئے موخر کرنے کی درخواست کی تھی، اگرچہ اس میں واضح طور پر 8؍ نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن کا ذکر نہیں کیا گیا تھا جس میں جو بائیڈن کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہیں۔ مڈ ٹرم الیکشنز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک اہم معاملہ بن چکی ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے واضح کیا کہ تمام معاشی اشاریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ماہ کیلئے اوپیک پلس کے فیصلے کو موخر کرنے کے منفی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس دعوے سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے کس نوعیت کی سیاسی حساسیت کا سامنا ہے کیونکہ ایک طرف اس معاملے کے اثرات دو طرفہ تعلقات پر مرتب ہوں گے تو دوسری طرف اوپیک پلس کے فیصلے کا فائدہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو ہوگا۔ سعودی عرب نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام اوپیک ممبران نے متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر عہدیدار اور ارکان کا کہنا ہے کہ فیصلے کے پیچھے سیاسی محرکات تھے اور ایک اتحادی ملک نے امریکا کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے دہائیوں پر محیط طویل تعلقات کی مضبوطی کو ممکنہ طور پر روسی صدر کے حق میں کمزور کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دہائیوں بعد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں خلیج انتہائی سنگین ہے اور توقع ہے کہ صورتحال کے اثرات سعودی عرب کی جانب سے تیل کی فراہمی کے عوض شاہی مملکت کی حفاظت کے معاہدہ جات پر مرتب ہوں گے۔ اسی دوران، شہزادہ محمد نے باہمی تعلقات میں آئی خلیج کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سعودی عرب کے دیگر عالمی پارٹنرز میں سے ایک ہے تاہم ان کا ملک کسی ڈکٹیشن پر عمل نہیں کرتا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یوکرین کے معاملے پر روس کی مذمت کیلئے اقوام متحدہ میں پیش کردہ قرارداد کے حق میں ممکنہ طور پر ووٹ دے سکتا ہے۔
امریکا نے پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ موخر کرنے کیلئے دباؤ ڈالا، سعودی عرب







