رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین نثار اے لطیف نے کہا ہے کہ پچھلے پانچ ماہ سے سولر اور اس سے متعلقہ انڈسٹری تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے جو بیروزگار ہو چکے ہیں۔ملک میں بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوے قیمتوں کی وجہ سے سولر سسٹم لگوانا اب ایک ضرورت بن گیا ہے لیکن حکومت نے سولر پروڈکٹس کو اس فہرست میں ڈال دیا ہے جس کی کلیرنس کے لیے سٹیٹ بینک سے خصوصی اجازت نامہ درکار ہے –ایک طرف موجودہ حکومت نے دس ہزار میگاواٹ کے سولر پروجیکٹس کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری طرف یہ امپورٹ پالیسی اس کے برعکس ہے ،اس وقت سینکڑوں کنٹینرز پورٹس پر صرف اس انتظار میں پھنسے ہوئے ہیں کہ اسٹیٹ بنک اْن کو کلیئر کرانے کی منظوری دے – مارکیٹ میں جو سامان تھا وہ ختم ہو چکا ہے- سولر کا کام کرنے والی کمپنیاں سامان نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پروجیکٹس مکمل نہیں کر پا رہیں اور ان کے لیے کاروبار کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیاہے – کچھ کمپنیوں کو تو وعدہ خلافی کی شکایت پر عدالتی کارواء کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے-انہوں نے کہا کہ اس وقت سولر امپورٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانہ ادا کرناپڑ رہا ہے۔ فی کینٹینر یومیہ کرایہ 120 ڈالرہے جو کہ انٹرنیشنل شیپنگ کمپنیاں چارج کر رہی ہیں۔اس حساب سے موجودہ پھنسے ہوے سامان کا اوسط ماہانہ کرایہ تقریبا ایک ملین ڈالرسے ذیادہ بن رہا ہے اور پورٹ کا جرمانہ علیحدہ ہے، یہ صورتحال کسی کے بھی حق میں نہیں ہے کیونکہ ہمارہ قیمتی ذرمبادلہ اس طرح ضائع ہو رہا ہے،حکومت کم از کم یہ کر سکتی ہے کہ جو سامان پورٹ پہ آ چکا ہے اْس کو بونڈڈویئر ہاوس میں لے جانے کی اجازت دے تا کہ ملک کے قیمتی ڈالر بلا وجہ ضائع ہونے سے بچائے جاسکیں۔ اگر ان انوسٹرز کو اسی طرح پریشان کیا جاتا رہاا اور نقصان اسی طرح ہو تا رہاتو آئندہ کون اس کاروبار میں انوسٹ کرنے کی ہمت کرے گا۔ان پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں سولر انڈسٹری تباہی کے دہانے پہ آ کھڑی ہوء ہے-ہم بحیثیت رینیوایبل انرجی بزنس کمیونٹی، وزیراعظم پاکستان اور دیگر ارباب اختیار سے گزارش کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہماری فوری مدد کی جاے اور حکومت سے پر زور درخواست ہے کہ اس انڈسٹری کو ڈوبنے سے بچائیں- – سولر پینل اور انورٹر کے کوڈ کو سٹیٹ بینک کی پیشگی اجازت کی لسٹ سے نکالا جاے۔انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے کنٹینرز کو فوری ریلیز کروایا جائے اور جرمانہ معاف کیا جاے۔کی تمام پروڈکٹس پر سیلز ٹیکس ختم کیا جاے۔اس کے لیے واضع پالیسی مرتب کی جائے اور مقامی کمپنیوں کو پروجیکٹس میں ترجیح دی جاے۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی بے روزگاری بہت زیادہ ہے اب اس میں اور اضافہ ہو جائے گا-ہماری مدد کریں اسی میں ملک کی مدد ہے۔










