بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بند کمروں میں وہی باتیں ہوئیں جو جلسوں اور ٹی وی پر کیں

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ادارہ کمزور ہو۔
ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی مشترکہ اور غیر معمولی پریس کانفرنس کے جواب میں فواد چودھری کے ہمراہ کی گئی پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا یہ درست ہے فوج کی لیڈر شپ پر الزام اور نیت پر شک مناسب نہیں، لیکن کیا پاکستان کا سب سے بڑے سیاسی لیڈر کا رتبہ ملکی سلامتی اور وحدانیت کیلئے اہم نہیں؟
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس پر بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ ہمشیہ اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں، وہ کیوں سوال اٹھا رہے۔انہوں نے کہا کہ فوج آئینی کردار کے اندر رہنا چاہتی ہے، یہ اچھی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں غیر آئینی مطالبہ کیا کیا گیا؟ جو مطالبہ کیا گیا وہ ہزار دفعہ عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت قوم کے سامنے دہرا چکے ہیں۔
اسد عمر نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فوج سیاسی نظام پر اثر رکھتی ہے اور آپ سے یہ کہنا کہ آپ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، آپ اس اثرورسوخ کو استعمال کریں تو اس سے آپ کو اتفاق ہو یہ نا ہو مگر یہ غیرآئینی مطالبہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بند کمروں میں وہی باتیں ہوئیں جو عمران خان نے جلسوں اور ٹی وی پر کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نفرتوں کی وجہ سے ٹوٹا تھا لیکن کیا یہ سوچا گیا کہ نفرتیں پیدا کیوں ہوئی تھیں؟ یہ اس لئے ہوا کیونکہ پاکستانی عوام کی خواہشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ عوام کی اکثریتی رائے کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔
عمران خان فوج اور عوام دونوں کو اون کرتے ہیں اور فوج کی بہتری کیلئے تنقید کرتےہیں، عمران خان کا یقین ہے مضبوط فوج ملک کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے باہر جاکر کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ہم سے زیادہ فوج سے ہمدردی کس کو ہوگی، فوج کی لیڈر شپ کے ساتھ ضروری ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کی بھی عزت ہو۔
فواد چودھری نے کہا کہ ہمارے سامنے جتنے کمیشن بنے ان کی رپورٹس نہیں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کی پریس کانفرنس کا جواب دینا نہیں چاہتے، ہم سے زیادہ فوج سے کون محبت کرتا ہے۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ ہمارامارچ پرامن اورقانون کے دائرےمیں ہوگا، 126 دن کے دھرنے میں ایک شیشہ تک نہیں ٹوٹا تھا، لانگ مارچ پرامن ہوگا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب کی خواہش ہے ادارے سیاست میں حصہ نہ لیں، ہم سمجھتے ہیں نیا پنڈورا باکس کھول دیا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک حوالہ میٹنگز کا دیا گیا، سوال یہ ہے کیا ہم نے ان میٹنگز میں کوئی غیر آئینی مطالبہ کیا ہے۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ شفاف الیکشن کا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ہمارے ایک ساتھی نے پریس کانفرنس کی جو خوف پھیلانےکیلئےتھی، اس حوالے سے پارٹی نے فیصل واوڈا کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا دفاع کرتے آئے اور کرتے رہیں گے۔ آئین میں تمام اداروں کا رول متعین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کرانے سے ملک میں استحکام آئےگا، ہم سیاسی عدم استحکام کے قائل نہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سفیر نے کہا سائفر میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی اور اس پرڈیمارش کی تجویزدی۔