پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ مجھ پر زیادتی اور تشدد کی ذمہ دار وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم برانچ اسلام آباد، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ یا موجودہ حکومت نہیں، یہ چھوٹے اداکار ہیں۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ البتہ ایف آئی اے کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ عدالتی اور پارلیمانی فورم پر بتائے کہ انہوں نے کس کے کہنے پر صرف ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر مجھ پر ایف آئی آر کاٹی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کس کے کہنے پر میرے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مارا، میرے اہلِ خانہ کے سامنے مجھے مارا گیا، میرے گھریلو ملازمین کو بری طرح پیٹا گیا اور ٹھیک سوا 4 بجے ایف آئی اے نے کن نامعلوم سفید لباس میں ملبوس ان درندوں کے حوالے کیا جنہوں نے اس جمہوری ملک کے دارالحکومت میں مقننہ و عدلیہ کی ناک کے نیچے گوانتاناموبے کی سیاہ تاریخ کو دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز کے ڈاکٹروں سے بھی پوچھا جائے گا کہ میرے جسم پر جو تشدد کے نشانات تھے وہ انہوں نے کس کے کہنے پر مٹائے، ماتحت عدالتوں سے، مجسٹریٹ سے پوچھا جائے گا کہ قانون و آئین سے بڑا کون ہے جو آپ بار بار میرا جسمانی ریمانڈ ان لوگوں کے حوالے کرتے تھے۔
“میں توقع کرتا ہوں کہ مجھ پر ہونے والے ظلم کی اعلی عدالتی تحقیق کی جائے اور میرے 2 مجرموں کو ایک سینئیر پارلیمینٹیرین سے ماورائے آئین و قانون زیادتی اور دوران حراست تشدد کا مداوا کرنے کے لیے فوری اپنے عہدے سے ہٹایا جائے” – سینیٹر اعظم سواتی pic.twitter.com/M4d9KWuZl7
— PTI (@PTIofficial) October 28, 2022
اعظم سواتی نے کہا کہ فوج کے ایک ایک سپاہی کے خون کی قسم آپ کی صفوں میں کالی بھیڑیں ہیں جن سے میں زندگی کے آخری لمحے تک لڑوں گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی حیثیت ہماری قومی سلامتی میں ریڑھ کی ہڈی کی ہے لیکن آئی ایس آئی کے چند لوگ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، ملک کا کوئی ادارہ ان چند اشخاص کی بلیک میلنگ سے بچا ہوا نہیں، ان کی انسانی برائیوں کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ باجوہ صاحب، آج پوری قوم آپ کی جانب دیکھ رہی ہے، ملک کا ہر سیاسی کارکن اور ہر اداروں کا انتظامی فرد آپ سے توقع کرتا ہے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل آئی ایس آئی کے اس بدنامِ زمانہ سیاسی ونگ کو دفن کردیں کیوں کہ یہ پاکستان کی ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر ہونے والے بے انتہا ظلم کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور توقع کرتا ہوں کہ میرے 2 مجرم میجر جنرل اور سیکٹر کمانڈر کو ایک پاکستانی پارلیمنٹیرین کے ساتھ ماورائے قانون زیادتی و حراستی تشدد کا مداوا کرنے کے لیے ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ یہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے عدالتی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔
انکے ڈاکٹروں سے بھی پوچھا جائے گا کہ میرے جسم پر تشدد کے نشان کس کے کہنے پر مٹائے؟ آخر کیسے 15 دن گزرنے کے بعد بھی یہ تشدد انہیں نظر نہیں آیا اور کیسے مجھے جسمانی ریمانڈ پر انکے حوالے کیا جاتا رہا ؟@AzamKhanSwatiPk pic.twitter.com/JhAyLVhVuY
— PTI (@PTIofficial) October 28, 2022
اعظم سواتی نے کہا کہ میں ان قانون شکنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری 22 سالہ سیاسی زندگی میں تم سے بہت بہتر میجر جنرل، بریگیڈیئر اور آئی جی پولیس نے میرے عہدے کے لحاظ سے میرے ماتحت کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عوام کو باور کرایا کہ اب ہمارا کوئی سیاسی کردار نہیں ہوگا، اللہ کرے پاکستانی سیاسی و عسکری تاریخ کے سابقہ حوالوں کی طرح یہ بھی جھوٹ نہ ہوں اور پاکستانی محکوم قوم اس بیان کی سچائی کوآپ کے عمل سے دیکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد کے مقامی مجسٹریٹس کو وارننگ دیتا ہوں کہ میرے اس واقعے کو آپ نے کور اپ نہیں کرنا کیوں کہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں، بین الاقوامی فورمز میرے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے پردہ اٹھائیں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ میں نے سچائی و حقائق پر مبنی اپنا مقدمہ سپریم کورٹ کی دہلیز پر پیش کردیا ہے۔









