بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سابق چیف جسٹس نور مسکان زئی کا مبینہ قاتل گرفتار

کوئٹہ (ممتاز نیوز)جسٹس محمد نور مسکانزئی کا قاتل گرفتار ہوگیا ۔ قتل کی زمہ داری کلعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی ۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزازگورایہ نے کوئٹہ میں میڈیا کو بریف کرتے ہوئے قتل میں ملوث مبینہ دہشتگرد شفقت اللہ کا اعترافی بیان بھی دکھادیا ۔

قتل کے احکامات ہمسایہ ملک میں کلعدم تنظیم کے روپوش کمانڈر نے دئیے تھے ۔ بلوچستان ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ میں چیف جسٹس کے منصب پر فائض رہنے والے جسٹس محمد نور مسکانزئی کو 14 اکتوبر کو آبائی علاقہ خاران میں دہشتگرد حملہ میں نشانہ بنایا گیا ۔ شہادت کی تحقیق کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ۔ محکمہ داخلہ نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو کنوینر مقرر کیا تھا ۔

سات ارکان پر مشتمل جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی رخشان ڈویژن ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ ، آئی ایس آئی ، انٹیلی جینس بیوریو ، ایم آئی اور ایف سی خاران کے نمائندوں کے ساتھ کیس کے انویسٹی گیشن آفیسرز ٹیم کا حصہ تھے ۔ محمد نور مسکانزئی کو نماز عشا ادائیگی کے وقت ٹارگٹ کیا گیا ۔ انہیں چار گولیاں لگیں تھیں ۔ فرسٹ ایڈ کے بعد کوئٹہ ریفر کیا جارہا تھا ۔ لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوئے ۔

جسٹس مسکانزئی 2014 سے 2018 تک عدالت عالیہ بلوچستان کے 18 ویں چیف جسٹس رہے ۔ جسٹس نور مسکانزئی فیڈرل شریعت کورٹ کے 17 ویں چیف جسٹس بھی تھے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے توتک تربت میں اجتماعی قبروں کے معاملے کی تحقیقات کیلئے جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا ۔ کمیشن رپورٹ کی تائید اور اور اس پر تنقید بھی کی گئی ۔