اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے در میان باہمی تعاون کی یادداشت پر اتفاق کر نے کی ایک تقریب گذشتہ روزمنعقد ہو ئی، تقریب میں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر جان محمد جاوید،چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن چوہدری محمد اشرف، ای- سی ممبران جناب عامر علی، جناب محمود احمد اور دیگر پی-پی- اے ممبران نے شر کت کی جبکہ پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی نمائندگی سائنٹیفک آفیسر حافظ سعد نے کی۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے عہدے داران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سویابین ایک اہم غذائی فصل ہے جسکی سالانہ عالمی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہو رہاہے، بین الاقوامی سطح پہ سویابین کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اسکی بہترین غذائی ساخت اور اشیائے خورونوش میں اسکا بیش بہا استعمال ہے، اسکے بیج میں چالیس سے بیالیس فیصد اعلیٰ قسم کی پروٹین ہے جو مرغیوں ِ دودھ دینے والے جانوروں اور مچھلیوں کی خوراک بنانے میں استعمال ہوتی ہے، یاداشتہ میں کہا گیا کہ سویابین کے بیج میں اٹھارہ سے بائیس فیصد معیاری تیل بھی پایا جاتا ہے جو پکانے والے تیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں پولٹری میں خاطرخواہ وسعت آئی ہے جن کا براہ راست انحصار سویابین پر ہے، جبکہ دوسری طرف سویابین کی مقامی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے جس کے نتیجے میں فیڈ انڈسٹری کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ملک میں سویابین کی درآمد نا گزیر ہے۔ اس وقت پاکستان میں سویابین بیج کی درآمد پر سالانہ تقریبا دو سوارب روپے کے مساوی بیرونی زر مبادلہ خرچ کر رہا ہے،یاداشتہ میں کہا گیا کہ پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے دریافت کردہ مقامی سویابین کے بیجوں (آری اور فیصل) کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے سویابین کاشت کرنے کے خواہش مند کسانوں کو کنٹریکٹ فارمنگ کے ذریعے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اعتماد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، سویابین کی فصل کو پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبران نہ صرف خریدیں گے بلکہ اس کو باحفاظت اٹھارہ ڈگری سینٹی گڑیڈ پر محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی لیں گے تاکہ یہ بیج اگلے سال کی کاشت کے لیے موثر طور پر استعمال ہو سکے، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن،پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی مطلوبہ مدد کرتے ہوئے مندرجہ بالا عمل تین سال تک جاری رکھے گا تاکہ پاکستان میں مقامی سویابین کی کاشت کو تجارتی بنیادوں پر ممکن بنایا جا سکے جس سے پاکستان دو سے ڈھائی ارب روپے کا بیرونی زر مبادلہ بچا سکے گا۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور پاکستان آئل سیڈز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے در میان باہمی تعاون کی یادداشت پراتفاق








