بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مالیاتی فرق کو پرُ کرنے کیلئے منی بجٹ کے ساتھ آئیں، آئی ایم ایف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور بیرونی مالیاتی فرق کے درمیان پاکستان اور آئی ایم ایف فریقین نظر ثانی شدہ میکرو اکنامک اور مالیاتی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت بجٹ خسارہ اور بنیادی خسارہ متوقع اہداف کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر بڑھنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان سے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیوز دونوں میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے 800ارب روپے کے جی ڈی پی ریونیو کا اضافی 1 فیصد حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ قرض کی فراہمی غیر معمولی سطح تک بڑھ گئی ہے جس سے مالیاتی محاذوں پر مزید دباؤ پڑتا ہے۔بجٹ خسارہ مزید 4.750ٹریلین روپے یا 3.79 ٹریلین روپے کے متوقع ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کے 6فیصد کے قریب جانے کا امکان ہے۔ بنیادی خسارے کا اب اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سرپلس 152 ارب روپے کے متوقع ہدف کے مقابلے میں 2.18 ٹریلین روپے کے برابرجی ڈی پی کے 2.8فیصد کے خسارے کو چھو سکتا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے صحافیوں کے ایک منتخب گروپ کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر مالیاتی خسارے کے تناظر میں آئی ایم ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مالیاتی فرق کو پر کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرتے ہوئے منی بجٹ کے ساتھ آئے۔ میکرو اکنامک فریم میں نیچے کی جانب نظر ثانی کی جائے گی کیونکہ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے اور مہنگائی 23سے 25 فیصد کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔ سب سے اہم نیچے کی جانب مالیاتی فریم ورک پر نظر ثانی کرنا ہے جس کے تحت ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کے اہداف کو دوبارہ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ایف بی آر کو خسارے کا سامنا ہے اور اسے رواں مالی سال میں 7.47ٹریلین روپے کے متوقع ہدف کے حصول کیلئے خسارے کا سامنا کرنے کا امکان ہے۔ درآمدی دباؤ کی وجہ سے ایف بی آر کے خسارے کا تخمینہ 400سے 500ارب روپے تک ہے۔بیرونی طور پر پاکستان کو 32سے 34 ارب ڈالرز کی حد میں ڈالرز کی آمد درکار ہے۔ آئی ایم ایف نے ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کیلئے فیول سبسڈی پیکج میں اضافہ کیا اور اعتراض اٹھایا کہ حکومت کے تصور کے مطابق سبسڈی کی رقم 100ارب روپے تک کم نہیں کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا کہ بجلی اور گیس کی سبسڈی سے 200ارب روپے خرچ ہونگے ۔ آئی ایم ایف نے کسان پیکج پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے اور استفسار کیا کہ مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالی وسائل کہاں سے پیدا کیے جائیں گے۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ رواں مالی سال کیلئے کسان پیکج کے بجٹ پر مجموعی اثرات کا تخمینہ تقریباً 18 ارب روپے لگایا جائے گا۔ عہدیدار نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹری ریلیف کیلئے 536ارب روپے دیتی ہے لیکن اس کے بدلے برآمدات میں بمشکل 2ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔