اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )10.5 ارب ڈالرز کی میگاریفائنری کیلئے پاک سعودیہ مذاکرات معقول حد تک آگے بڑھ گئے ۔
تفصیلات کے مطابق مذاکرات کا حصہ ایک عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے پیش نظر ملتوی کر دیا گیا ہے.
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان وزارتی اور ماہرین کی سطح پر بات چیت بھی 10.50 ارب ڈالرز کی آرٹ آف دی اسٹیٹ ڈیپ کنورژن میگا ریفائنری کے قیام کے لیے معقول حد تک آگے بڑھ گئی ہے۔
سعودی فریق 20-25سال کے لئے 7.5فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن پاکستان پہلے دس سالوں کے لیے 10فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی کی پیشکش کر رہا ہے۔ تاہم نظر آنے والے اشارے ہیں کہ پاکستان نے سعودی آرامکو کا 25سال کے لئے 7.5فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی کا مطالبہ تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ اور اب ولی عہد کے دورے، جو اس سے قبل 21نومبر 2022کو طے شدہ تھا، کے التوا کے بعد نئے منظر نامے میں، آیا ریفائنری پر جاری مذاکرات جاری رہیں گے یا نہیں، حکام کے لیے بڑا سوال ہے۔
ریفائنری پر بات چیت کیلئے پی ایس او پاکستان کی جانب سے نامزد ادارہ ہے اور سعودی آرامکو سعودی عرب سے ہے۔ دونوں فریقوں کو 21نومبر 2022سے پہلے معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کا پابند کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اس سے قبل 24اکتوبر کو دو روزہ دورے پر سعودی عرب گئے تھے جہاں انہوں نے 21ارب ڈالرز کے ایم او یوز کی بحالی کا کام کیا تھا جن میں ریفائنری کا پراجیکٹ اور 10ارب ڈالرز کا پٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں جن پر پہلے فروری 2019میں دستخط کئے گئے تھے۔
تاہم نئے منظر نامے کے تحت پیٹرو کیمیکل کمپلیکس اب ریفائنری منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔ اور مزید اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب ریفائنری کو مکمل طور پر فنانس نہیں کرے گا لیکن ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر میگا ریفائنری پراجیکٹ میں حصہ لے گا۔
اب تک ہونے والی بات چیت کے مطابق سعودی آرامکو سے بڑے سرمایہ کار کے طور پر اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے ۔ اور سعودی آرامکو 20-25سال کے لئے7.5فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی مانگ رہا ہے اور تقریباً پاکستان نے سعودی عرب کے نقطہ نظر کی تائید کردی ہے کیونکہ وہ آرامکو سے کسی بھی قیمت پر سرمایہ کاری کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
اگر سعودی آرامکو بڑے سرمایہ کار کے ساتھ آتا ہے تو پھر چین جیسے ممالک اور یو اے ای کی ADNOC بھی روزانہ 3لاکھ 50ہزار تا 4لاکھ بیرل خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے ریفائنری کے مذکورہ منصوبے کے لیے سرمایہ کاری کے ساتھ آئیں گے۔
پاکستان کی جانب سے پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاک عرب ریفائنری بھی اس منصوبے کے لیے فنانسنگ کا انتظام کریں گے۔ تاہم کنسورشیم کے ڈھانچے کو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ریفائنری کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔
عہدیدار نے کہا کہ موجودہ ریفائنریز گزشتہ21سالوں سے ڈیمڈ ڈیوٹی وصول کر رہی ہیں اور اگر سعودی آرامکو جیسے سرمایہ کاروں پر 20-25سال کے لیے ڈیمڈ ڈیوٹی کو یقینی بنایا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ ریفائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 4لاکھ بیرل یومیہ گنجائش والی میگا ریفائنری کی لاگت 10.5ارب ڈالرز ہے۔ ریفائنری حب، بلوچستان میں قائم کی جائے گی جو کراچی کے قریب ہے۔









