اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان میں تعینات ویتنام کے سفیر نوین ٹیئن فانگ نے کہا کہ 2022 کے پہلے 10 مہینوں میں ویتنام کا کل کاروبار 675 ارب ڈالر تھا جس میں سے 333 ارب ڈالر کی درآمدات اور 342 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں لہذا پاکستان کیلئے ویتنات کے ساتھ تجارت اور برآمدات کو مزید فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام بہت سی مصنوعات درآمد کر رہا ہے جن میں کاٹن اور یارن، ادویات، آلات جراحی، چمڑے کی مصنوعات، کپڑے، کیمیکل، گوشت اور مٹن کی مصنوعات، پالتو جانوروں کی خوراک اور کھاد وغیرہ شامل ہیں لہذا پاکستان کیلئے اچھا موقع ہے کہ وہ ویتنام کو ان مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرے جس سے دونوں ممالک کی باہمی تجارتی آسانی سے ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ٹی اور سافٹ ویئر شعبے میں باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے جبکہ ویتنام کو ان پیشہ ور افراد کی بہت ضرورت ہے لہذا پاکستان اپنی آئی ٹی شعبے کی افرادی قوت ویتنام کو برآمد کر سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ویتنام کے سفیر نے کہا کہ آئی سی سی آئی ویتنام کیلئے اپنا ایک وفد تشکیل دے اور وہ اس کے دورے کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے تجارتی وفود کا باقاعدگی کے ساتھ تبادلہ ضروری ہے۔ انہوں نے ویتنام، آسیان اور دیگر ممالک سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان میں پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے پاکستان آسیان فورم منعقد کرنے کی تجویز کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کے انعقاد میں بھرپور تعاون کریں گے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں لیکن دونوں کی باہمی تجارت 2021میں دونوں کی باہمی تجارت صرف 70کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی جو کہ دونوں ممالک کی اصل صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم تجارت کی بڑی وجہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان کاروباری مواقعوں کے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مضبوط کاروباری روابط قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ باہمی تعاون کے تمام ممکنہ شعبوں کو تلاش کر کے باہمی تجارت کو بہتر کیا جا سکے۔
احسن بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، زراعت، تعلیم، توانائی اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام آسیان بلاک کا ایک اہم رکن ہے لہذا ویتنام کے ساتھ قریبی تعاون قائم کر کے پاکستان آسیان خطے کی بڑی مارکیٹ تک آسان رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے ویتنام کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ سی پیک سمیت پاکستان کی معیشت کے دیگر شعبوں میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ ویتنام کے سرمایہ کار پاکستان میں سمارٹ فون اور کمپیوٹر چپس سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں کیونکہ ویتنام اس شعبے میں بہتر مہارت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے ویتنام کے سرمایہ کار پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو اپنی برآمدات بھی کر سکتے ہیں۔
چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید، گروپ لیڈر خالد اقبال ملک، ظفر بختاوری، میاں شوکت مسعود، زاہد مقبول اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان کے ویتنام کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے بارے میں مفید تجاویز دیں۔
ویتنام کے سفیر کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ








