اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملکی بدلی سیاسی صورتحال، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلوچستان شاہ زین بگٹی کی حکومت کو خیر باد دینے کے بعد آج شام کو پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان اہم ملاقات ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم لیگ قائد کے درمیان اہم ملاقات طے پاگئی ہے۔ جس میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سمیت دیگر امور زیر بحث آئیں گے۔ شاہ زین بگٹی نے وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد کیا۔عوامی جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی نے کہا کہ میں وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دیتاہوں، اس جدوجہد میں ہم پی ڈی ایم کیساتھ کھڑے ہیں۔خالد مگسی نے حکومتی رہنماؤں کے دعوؤں کے جواب میں کہا ہے کہ فریقین کو واپس لانے کا وقت گزر گیا ہے، جانے والوں کو پی ٹی آئی کے رویے اور الفاظ نے دور کیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بی اے پی رہنما خالد مگسی نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جلسے جلوسوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی کو باہر لے کر آ گئے ہیں، جس سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے، یہ میدان کی لڑائی نہیں بلکہ یہاں پر نمبر گیم ہے۔انھوں نے کہا ساڑھے تین سال ہم نے تقریباً اپوزیشن میں گزارے ہیں، ہمیں پی ٹی آئی کے رویے اور الفاظ نے دور کیا ہے، مزید وقت اپوزیشن میں نہیں گزارنا چاہتے۔خالد مگسی کا کہنا تھا حتمی وقت آ گیا ہے، خان صاحب نے ڈرا دیا ہے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا، اس وقت بھی اپنے الائنس کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، ہم نے اپنا نمبر پورا کرنا ہے جس کے لیے ورک آؤٹ کر رہے ہیں، ہم ق لیگ اور ایم کیو ایم سے رابطے میں ہیں۔بی اے پی رہنما نے کہا کل 4 بجے سیشن شروع ہوگا اور فیصلہ سامنے آ جائے گا، کل شام سے ایسی خبریں دیں گے کہ آپ کے پاس نیوز ہی نیوز ہوں گی، بولڈ آؤٹ کس کو کریں گے اس لیے تھوڑا مزید انتظار کریں۔
ملکی بدلتی سیاسی صورتحال ، مسلم لیگ ن کی قیادت سے آج شام کو حکومتی اتحادی جماعت کی اہم ملاقا ت طے








