فیصل آباد : ایکسپورٹرز کو مختلف ٹیکسوں کے ریفنڈزکی مد میں 345ارب روپے کی عدم ادائیگی کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سنگین مالی بحران کا سامنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے 45ارب روپے کے ریفنڈز پیمنٹ آرڈرز (آر پی اوز)کی ادائیگی تاخیر کا شکا ر ہے جبکہ گزشتہ 6 ماہ کے عرصے میں سیلز ٹیکس کی مد میں واجب الاادا رقم 15 ارب روپے سے بڑھ کر 55 ارب روپے ہو گئی ہے، اس طرح جولائی 2019 ء سے واجب الاادا سیلز ٹیکس کی مجموعی رقم 200 ارب روپے سے زائد ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں انکم ٹیکس /کریڈٹ کی مد میں 100 ارب روپے جبکہ ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 45 ارب روپے کی رقم واجب الاادا ہے، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف خرم مختار کے مطابق موجودہ صورتحال میں ٹیکسٹائل برآمدات پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ ختم کئے بغیر ایکسپورٹ انڈسٹری کی بقاء ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام تر وعدوں کے باوجود ایف بی آر زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈز 72 گھنٹوں کے اندر ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور ایکسپورٹرز کے ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی گزشتہ ایک ماہ سے بند ہے۔خرم مختار کے مطابق ان حالات میں برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی پوزیشن اور عالمی منڈی میں مسابقت کو بہتر بنانے اور دھوکہ دہی و اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے زیرو ریٹنگ کی بحالی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایکسپورٹرز سے پہلے ٹیکس ادا کرنے کا مطالبہ کرنا اور پھر بعد میں ریفنڈزکے حصول کے لئے طویل انتظار کروانے کی پالیسی برآمدات میں اضافے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
345 ارب ریفنڈز کی عدم ادائیگی، ٹیکسٹائل انڈسٹری مالی بحران کا شکار








