بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کاروباراور سرمایہ کاری کو تباہی سے بچانے کیلئے شرح سود کو کم کر کے دس فیصد سے نیچے لایا جائے۔ احسن بختاوری

اسلام آباد (ممتاز نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود میں مزید اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گا جس سے بہت سی صنعتیں بند ہو جائیں گی اور پہلے سے کمزور معیشت مزید زوال کا شکار ہو گی۔انہوں نے کہا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر، بجلی و گیس کی مہنگی قیمتوں اور گیس بحران سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے کاروباری طبقے کو پہلے ہی متعدد مشکلات درپیش ہیں لہذا ان مشکل حالات میں کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے حکومت نے شرح سود میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جو کاروبار، سرمایہ کاری اور اور معاشی سرگرمیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے ملک میں بلا سود بینکاری کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے جو باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ میں شرح سود صرف ۱ فیصد، تائیوان 1.63 فیصد، سنگاپور 2.65 فیصد، ملائیشیا 2.75 فیصد، جنوبی کوریا 3.65 فیصد، چین 3.75 فیصد، انڈونیشیا 5.25 فیصد، بنگلہ دیش 5.75 فیصد، بھارت 5.9 فیصد اور ویتنام میں 6 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں اسے بڑھا کر 16 فیصدکر دیا گیا ہے جو ملک کی گذشتہ 24سالہ تاریخ میں بلد ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2022 میں شرح سود میں مجموعی طور پر 6فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے جس نے کاروباری طبقے کی مشکلات بہت بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کائیبور کو شامل کرنے کے بعدشرح سود 18.50 فیصد ہو جائے گا جبکہ بینک منافع اور انشورنس کو شامل کرنے کے بعد یہ 22 فیصد تک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اتنے زیادہ شرح سود پر کون بنکوں سے کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے قرضہ لے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو کم کر کے دس فیصد سے نیچے لائے تاکہ پیداواری لاگت ہو، پیداواری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے، ہماری برآمدات بہتر ہوں اور معیشت بحالی کی طرف بڑھے۔
چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید اور نائب صدر محمد اظہر الاسلام ظفر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کو روکنے اور مالیاتی استحکام کو لاحق خطرات پر قابو پانے کیلئے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کا جواز پیش کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتائج اس کے برعکس ہوں گے کیونکہ صنعت کار بینک کے مہنگے قرضوں کو بوجھ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے صارفین پر ڈالیں گے اور عام آدمی کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے اس کا جینا محال ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پہلے ہی بحران کا شکار ہے جبکہ درآمدات کیلئے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھل رہے ہیں۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور کاروبار کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے پالیسی ریٹ میں اضافہ فوری واپس لے۔