اسلام آباد(کامرس ڈیسک) شوگر انڈسٹری اور وفاقی حکومت کے درمیان سمجھوتہ طے پایا گیا ہے اس کے مطابق پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کی ملیں جن کی تعداد 82ہے۔ آج 30نومبرسے پورے پاکستان کی 100فیصد شوگر ملیں کرشنگ شروع کردیں گی جبکہ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ آئندہ پیر کو چینی ایکسپورٹ کی سمری وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو پیش کریں گے۔ جو ای سی سی سے سمری پر سفارشات لے کر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں شوگر ایکسپورٹ کے بارے میں احکامات لیں گے۔ منگل 29نومبر کو شوگر انڈسٹری کے 7رکنی وفد نےشوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں ملک میں چینی کے فاضل سٹاک کے اعدادوشمار 25نومبر تک کو دیئے تھے ان اعدادوشمار اور چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد اور ایف بی آر کے ممبر سیلز ٹیکس فیڈرل ایکسائز انکم ٹیکس (ان لینڈ ریونیو آپریشنز)امجد زبیر ٹوانہ نے چینی کے سٹاکس کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے جو سٹاک کا ڈیٹا دیا وہ یکساں پایا گیا شوگر انڈسٹری نے 25مئی کو 10لاکھ 50ہزار ٹن فاضل سٹاکس کا معروف آڈٹ کمپنیوں کی طرف سے مستند قرار دیئے گئے فاضل ذخیرہ کی مقدار 10لاکھ 50ہزار ٹن بتائی تھی جبکہ 5دنوں میں 85ہزار ٹن چینی عوام استعمال کر چکے تھے۔اس طرح 29نومبر کو ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں چینی کا فاضل ذخیرہ 9لاکھ 60ہزار ٹن موجود ہے یہ اعدادوشمار منگل کو کئی گھنٹے دورانیہ کے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں پیش کئے گئے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی و چیئرمین بورڈ طارق بشیر چیمہ کر رہے تھے۔ طارق بشیر چیمہ نے استفسار کیا کہ 25نومبر کو شوگر انڈسٹری نے فاضل سٹاک ساڑھے 10لاکھ ٹن بتایا جبکہ آج منگل ایف بی آر نے 9لاکھ 60ہزار ٹن چینی کے سٹاک کی تصدیق کی ہے۔ طارق بشیر چیمہ نے شوگر انڈسٹری کے وفد سے پوچھا کہ یہ فرق کیوں ہے تو شوگر انڈسٹری کے وفد جس کی قیادت مرکزی چیئرمین عاصم غنی کر رہےتھے شوگر انڈسٹری کے وفد میں شامل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے زونل چیئرمین ذکا اشرف نے جواب دیا کہ پاکستان کی چینی کی یومیہ کھپت 17ہزار ٹن ہے۔
شوگر انڈسٹری اور وفاق کے درمیان ایکسپورٹ کا سمجھوتہ ہوگیا








