اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی رہنما، چیئرپرسن خیبرپختونخوا ویلفیئر بورڈ اور مردان اینڈیور لائنز کلب کی پریذیڈنٹ نیلم خان طورونے کہاہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی فضا معیشت کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے،پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا نہیں رہا بلکہ ڈیفالٹ ہو چکا ہے، جو بتایا جا رہا ہے ویسا کچھ بھی نہیں ہے،ملک میں انتخابات کروا کر ہی سیاسی و معاشی استحکام لایا جا سکتا ہے۔
اپنے ایک بیان میںنیلم طورو نے کہاکہ معیشت کی صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہے، پاکستان کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ جب سازش کے تحت پاکستان میں رجیم چینج آپریشن کیا گیا تو اسکے بعد کس طرح پاکستان کا معاشی قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ارشد شریف کیس میں سپریم کورٹ کے آرڈر سے پہلے پولیس نے اپنی طرف سے ایف آئی آر درج کروا دی ہے حالانکہ ایف آئی آر مدعی یعنی ارشد کی والدہ کی طرف سے ہونی چاہیے، جعلی ایف آئی آر کروا کر معاملے کو دوسری طرف لے جانے کی حرکت پہلے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیس میں بھی ہو چکی ہے۔
نیلم خان طورو نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن نے اس جھوٹی خبر پر خوشی منائی کہ صوبے میں صحت کارڈ پلس کو بند کیا جارہا ہے، اندازہ لگالے کہ اپوزیشن اس تاریخی منصوبے سے کتنا خوفزدہ ہے کیونکہ اس سے تحریک انصاف کو تاریخی کامیابی حاصل ہوگی اصل میں 48 ہسپتالوں میں صحت کارڈ پلس کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ یہ ہسپتال معیار پر اُترنے میں ناکام ہیں، جبکہ مزید 34 نئے ہسپتالوں کو شامل کردیا گیا ہے۔
نیلم خان طورو نے اعظم سواتی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی پر جو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اس کے خلاف پوری قوم کو کھڑا ہونا ہے، پوری قوم کو اعظم سواتی کی آواز بن کر اس ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ترقی کرتے ملک کو امپورٹڈ حکومت نے تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔
ملک میں انتخابات کروا کر ہی سیاسی و معاشی استحکام لایا جا سکتا ہے،نیلم طورو








