بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان اور سعودی عرب مل کر تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،رضوان سعید شیخ

جدہ (امیر محمد خان سے).اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں بہت سے اداروں میں سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔جدہ میں منعقدہ سعودی سرمایہ کاروں کی تقریب سے خطاب کے دوران رضوان سعید شیخ نے او آئی سی کی جون 2023 لاہور میں مجوزہ ٹرید فئیر کے حوالے سے سعودی سرمایہ کاروں کو تفصیلات بتادیئے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی اس کا سعودی عرب کیساتھ انمول رشتہ ہے جو وقت کیساتھ ساتھ مضبوط تر ہورہا ہے، قونصل جنرل خالد مجید کی رہائش پر دئے جانے والے عشائیہ سے قونصل جنرل جدہ خالد مجید نے بھی خطاب کیا ، عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اقتصادی تعلقات بھی مضبوط سے مضبوط تر ہونا ضروری ہے. پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے. پاکستان چائینہ کوریڈور کامیابی سے جاری ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تیزی آئی گی. اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری آئی گی. اس حوالے سے پاکستان میں آئندہ سال جون میں او آئی سی کا اٹھارہواں ٹریڈ فئیر لاہور میں ہونے جارہا ہے. جس کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا. سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک انتہائی نادر موقع ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور پاکستان میں مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کریں. حکومت مکمل تعاون اور سہولیات دینے کی پوری پوری کوشش کرے گی. خاص طور پر خواتین اور نوجوان جن کی کثیر تعداد دونوں ممالک میں ہے پاکستان اس معاملے میں انکی حوصلہ افزائی کے لیے تیار ہے کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری میں کردار ادا کریں. پاکستان اور سعودی عرب مل کر بہت سارے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جیسے آئی ٹی، سپورٹس، ٹور ازم، زراتقریب عت، ٹیکسٹائل، سرجیکل اور دیگر بیشمار سیکٹرز ہیں تقریب میں جدہ کے کمرشیل اتاشی وحید شیخ نے بڑی تعداد میں سعودی سرمایہ کاروں کی شمولیت کیلئے بھر پور کوشش کی تھی۔