اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان سے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یوکرین کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے فوجی تنازع کے جاری رہنے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے دشمنی کے فوری خاتمے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت میں پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پر تنازع کے منفی معاشی اثرات کو مسلسل اجاگر کر رہے ہیں، معاملہ تیل اور اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے شہریوں کے لیے انسانی امداد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان نے یوکرین میں لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے دو سی 130 طیارے روانہ کیے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے تنازعے سے پیدا ہونے والی بگڑتی ہوئی سلامتی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ نے فوری طور پر دشمنی کے خاتمے پر زور دیا، او آئی سی کے رکن ممالک کی طرف سے مذاکراتی عمل کی حمایت اور سہولت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے غیرجانبدار ممالک دشمنی کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے کوششوں کو تقویت دینے میں مددگار کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے یوکرینی حکام کی جانب سے پاکستانی طلباء اور شہریوں کے ساتھ ساتھ سفارت خانے کے عملے کو نکالنے کے لیے فراہم کی جانے والی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے دیگر ممالک کی جانب سے سفارتی حل کی سہولت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم کویوکرینی صدرکا ٹیلی فون، یوکرین کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال








