بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مولانا رفیع عثمانی کی گرانقدر علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ڈاکٹر جمال ناصر

راولپنڈی (ممتازنیوز)چیئرمین قمرجہاں فاؤنڈیشن ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ مولانا رفیع عثمانی پاکستان کے ایک معتدل ،بلند پایہ ،فقیہ اور مفتی تھے ،قوم ایک جیدعالم دین سے محروم ہو گئی ہے ۔ان کی وفات عالم اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے،فروغ دین اسلام کے سلسلے میں اُن کی گرانقدر علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کا مشن آئندہ بھی جاری رہے گا ۔ مفتی صاحب متوازن افکار و نظریات کے حامل تھے،انہوںنے اپنی تصانیف اور خطبات سے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی،انہوں نے جدید فقہی مسائل پرہمیشہ صائب موقف دیا۔
وہ پاسبان وطن ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جامعہ دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی اعظم مولانا رفیع عثمانیؒ کی یاد میں فیض الاسلام ہال میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے ۔ریفرنس سے جمعیت العلمائے اسلام (ف) اسلام آباد کے صدر مولانا عبدالمجیدہزاروی ،صدرعلماء اتحاد ،مہتمم جامعہ سراجیہ مولانا سید چراغ الدین شاہ ،صدر پختون اتحاد جاویدخان بنگش، صدر تحریک احتساب پارٹی سید شاہد گیلانی ،مولانا محمد علی قریشی ، شان انصاری ،حکیم محمد احمد سہارنپوری ،اکرم بہاری و دیگر نے بھی خطاب کیا اور مولانا محمد رفیع عثمانی کی دینی و عملی خدمات پر روشنی ڈالی ۔تلاوت قرآن پاک غلام فاروق نے کی جبکہ محمد اویس نے ہدیہ نعت ؐ پیش کیا ۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ علمائے دیوبند کی ملک و ملت کیلئے خدمات لائق ستائش ہیں ،ہمارے علمائے کرام کی بدولت دین کو فروغ ملا ، اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آج پاکستان ایک سیکولر سٹیٹ بن چکا ہوتا ۔ صدرپاسبان وطن ویلفیئر فاؤنڈیشن چوہدری خورشد انور نے کہا کہ مولانا رفیع عثمانی جب تک علمائے کرام ہیں پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ، مفتی اعظم کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ۔ جمعیت العلمائے اسلام (ف) اسلام آباد کے صدر مولانا عبدالمجیدہزاروی نے کہا کہ مفتی اعظم ایک بڑے عالم دین تھے ،ان کے دارالعلوم سے لاکھوں افراد سے اکتساب علم کیا اور آج اندرون و بیرونی ملک خدمت دین اسلام کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ علماء اتحاد کے صدر مولانا سید چراغ الدین شاہ نے کہا کہ وہ صدر جامعہ دارالعلوم کراچی اور مفتی تقی عثمانی کے بھائی تھے۔ان کی جلائی ہوئی دارالعلوم کی شکل میں شمع سے ہماری نسلیں بھی مستفید ہوتی رہیں گی ۔یہ ایک صدقہ جاریہ ہے جس کا بڑا اجر و ثواب ہے ۔صدر پختون اتحاد جاویدخان بنگش نے کہ مفتی صاحب پائے کے عالم دین تھے ،میرے پاس الفاظ نہیں کہ جن سے میں انہیں خراج تحسین پیش کر سکوں ۔مولانا محمد علی قریشی نے کہا کہ پاکستان میں علماء کا کردار اپنی مثال آپ ہے ،مفتی مرحوم ہمارا بہت بڑا آثاثہ تھے ،ایک مسلک سے تعلق رکھنے کے باوجودکبھی خود کو محدود نہ رکھتے ،ملنسار اور ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے ،ان کی یہ خوبی تھی کہ وہ سبھی مکاتب فکرسے روابط رکھتے تھے ، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔حکیم محمد احمد سہارنپوری نے کہا ہم ایک جید علام دین سے محروم ہو گئے ہیں ،ان کا خلاء شاہد مدتوں پورا نہ ہوسکا۔انہیں ہر مکتب فکر کے لوگوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔دین اسلام کی آبیاری کے لئے انہوں نے خود کو وقف کر رکھا تھا ۔ سید شاہد گیلانی نے کہا کہ مفتی اعظم جامعہ دارالعلوم کراچی کے رئیس الجامعہ ہونے کے علاوہ 30 سے زائد کتابوں کے مصنف، مفسرقرآن، فقیہ تھے۔