اسلام آباد (ممتازنیوز )وقار نسواں کمیشن کی چیئر پرسن نیلوفر بختیار نے کہا ہےکہ پاکستان میں خواتین ایک بڑی تعداد گھریلو تشدد سے ہلاک ہو چکی ہیں ، ہر سال ایک ہزار عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے،بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے،اس ضمن میں عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہے، عورتوں کے حقوق کے تحفظ اور بالا رستی کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنی آواز مزید بلند کرنا ہوگی۔
وہ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد ہ تقریبات کے آخری دن کے سیشن کر رہی تھیں ۔نیلوفر بختیار نے کہا کہ پاکستانی قوم بیداری کے مراحل میں داخل ھوچکی ہے، رواں صدی عورت کے حقوق کی صدی ہے، وہ اپنا حق لیکر رہیں گی۔ انہوں نے کہاکہ دو ماہ قبل تنازعات کی سفارتی ثالثی میں خواتین کے کردار پر کثیرالجہتی بین الاقوامی کانفرنس میں مجھے صنفی مساوات،خواتین اور بچوں کے تحفظ کے موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا،ویٹیکن میں ہونے والے پہلے پینل کا حصہ بننا میرے لئے اعزاز کی بات تھی جہاں دنیا بھر سے لوگ اپنے مذہب کی نمائندگی کے لیے اکٹھے ہوئے اور اس مخصوص پینل میں، میں نے خواتین کی طرف سے امن کی تعمیر کے کردار میں اسلام کی فخر کے ساتھ نمائندگی کی۔
انہوںنے کہاکہ میں نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور: خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے متاثرین کی حالت زار پر بات کی، فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو جیسی ہماری تاریخی لاجواب اور لچکدار خواتین لیڈروں کے ساتھ ساتھ سیاست، سماجی سرگرمی اور کھیل کے شعبوں میں موجودہ خواتین پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور قومی وقار نسواں کمیشن کے اشتراک سے 16 دن کی سرگرمی کو یادگار بنانے اور فیمی سائیڈ کے خاتمے کے موضوع پر پوسٹر مقابلے کے لیے ایک نمائش اور انعامات کی تقسیم کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کے لیے نورمقدم کے والدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، نور کی والدہ کوثر مقدم نے اپنے خطاب میں پاکستان کے نظام انصاف پر اپنے مکمل اعتماد کو اجاگر کیا۔ نور مقدم کے والد شوکت مقدام نے زور دے کر کہا کہ خواتین آگئے بڑھیں اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کریں۔
خواتین کا تحفظ وحقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے میڈیا کو مزید فعال کرداراداکرناہوگا، نیلوفر بختیار








