بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میڈیکل جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری، معاملہ سیاسی رخ اختیار کرگیا

کراچی(نیوز ڈیسک) لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو اور لاڑکانہ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کے عہدوں کیلئے انٹرویوز کا معاملہ سیاسی رخ اختیار کر گیا ہے۔ مخصوص امیدواروں کو شامل نہ کرنے کے معاملے پر تلاش کمیٹی سے دوبارہ اسکروٹنی کراکے اب کچھ مخصوص امیدواروں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جس سے امیدواروں کی تعداد 13 سے بڑھ کر 29 ہوگئی ہے۔اس سے قبل انٹروز مخصوص امیدوار کا نام نہ شامل کیئے جانے کے باعث ملتوی کردئیے گئے تھے۔ جو جمعہ 9 دسمبر کو ہونے تھے اب یہ انٹرویوز بدھ 14 جمعہ 16 دسمبر کو ہوں گے پہلی اسکروٹنی کے نتیجے میں جن 13امیدواروں کو اہل قرار دیا گیا تھا ان میں ڈاکٹر علی اکبر بھنڈ ، ڈاکٹر بیکا رام، ڈاکٹر اکرام الدین اجن، ڈاکٹر خالد تالپور، ڈاکٹر عزیز اجن، ڈاکٹر مہرالنساء، ڈاکٹر صغرا، ڈاکٹر ذولفقار سومرو، ڈاکٹر اکبر سیال، ڈاکٹر سیف اللہ جامڑو، ڈاکٹر صفدر علی شیخ، ڈاکٹر اقبال آفریدی، ڈاکٹر قربان علی راہو اومعین انصاری دیگر شامل تھے۔ تاہم دوبارہ اسکروٹنی کے نتیجے میں امیدواروں کی تعداد 29 ہوگئ ہے جن میں خاص طور پر پروفیسر حاکم علی ابڑو، پروفیسر نصرت شاہ اور پروفیسر آغا تاج شاہ کا نام شامل کیا گیا ہے۔ جنگ کو ایک امیدوار نے سوشل میڈیا پر چلنے والے ایک ایسے امیدوار کا انٹرویو لیٹر بھیجا جس کا پروفیسرکا تجربہ ہی پورا نہیں تھا تاہم امیدوار کا کہنا تھا گریڈ 17 کا تجربے کا اشتہار میں شامل کر انھیں اہل بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حاکم علی ابڑو کو چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود لاڑکانہ یونیورسٹی میڈیکل کا قائم مقام وی سی بنایا گیا اور بنیاد محکمہ صحت میں گریڈ 17 کا تجربہ بنا جس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے حاکم ابڑو کو ھٹادیا اب وہاں تین ماہ سے قائم مقام وی سی بھی نہیں۔ پروفیسر نصرت شاہ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر ہیں جب کہ ریٹائرڈ پروفیسر کسی بھی صورت میں پرووائس چانسلر نہیں ہوسکتا ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی عجیب ہے جس پر مدت تک درج نہیں اس سے قبل 11 پرووائس چانسلرز اس بنیاد پر فارغ کیئے تھے کہ وہ ریٹائرڈ تھے لیکن اس مرتبہ ان کا میڈیکل وارڈ میں آر ایم او کا تجربہ بھی شامل کرلیا گیا ہے اسی طرح پروفیسر آغا تاج اپنی ریٹائرمنٹ سے محض چھ روز قبل ہی پروفیسر بنے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تلاش کمیٹی کے جن اراکین نے وائس چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی دستاویزات کی اسکروٹنی کی ان میں ایک رکن بھی پی ایچ ڈی نہیں تھا۔ یاد رہے کہ ملک کے تینوں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت اور بلتستان اور وفاق میں وائس چانسلر کی عمر کی حد 65برس ہے مگر سندھ میں اسے 62سال کردیا گیا ہے۔اسی طرح سندھ میں وی سی کے اشتہار میں گریڈ 17 کا تجربہ بھی شامل کردیا گیا ہے جو کسی اور صوبے یا وفاق میں کبھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔