ٹانک (نیوز ڈیسک )خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بھاری اسلحہ سے لیس افراد کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر رات کو ہونے والے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں 3 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 3 حملہ آور مارے گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر وقار احمد نے بتایا کہ منگل کی رات سے بدھ کی صبح تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں 18 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپ پر حملہ کیا، ایف سی ایک نیم فوجی دستہ ہے جو افغانستان کے ساتھ سرحد کی حفاظت کرتی ہے، ضلع ٹانک افغانستان کی سرحد سے متصل قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے۔
ضلعی پولیس افسر کے مطابق مزید فورسز کو علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار احمد نے کہا کہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک ترجمان نے حملے کہ ذمہ داری قبول کرلی ہے، محمد خراسانی نے کہا کہ یہ حملہ 3 خود کش بمباروں نے کیا تھا جو اب مارے جاچکے ہیں۔
پاکستان کے 7 قبائلی اضلاع میں سے ایک جنوبی وزیرستان ہے جو کہ برسوں سے طالبان اور ان کے غیر ملکی مہمانوں کا گڑھ رہا ہے، سیکیورٹی فورسز نے 2009 میں ایک بڑی کارروائی شروع کرنے کے بعد علاقے سے عسکریت پسندوں کا صفایا کردیا تھا، فورسز نے 04-2003 میں ہونے والے آپریشنز میں بھی حصہ لیا تھا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تمام عسکریت پسند پڑوسی ملک افغانستان فرار ہو گئے تھے اور اب وہاں سے کارروائیاں کررہے ہیں۔
ٹی ٹی پی نے دسمبر میں ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع سے انکار کے بعد حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ٹی ٹی پی ترجمان نے اپنے بیان میں کُرم اور شمالی وزیرستان کے اضلاع کے سرحدی علاقوں میں فورسز پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
قبائلی عمائدین اب مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا (کے پی کے) کے ضلع بنوں کی تحصل لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ سرچ آپریشن اور فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 28 اور 29 مارچ کی درمانی شب فوج اور پولیس نے لکی مروت کے علاقے شیری خیل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر مشترکہ آپریشن کیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے اور ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا، مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت دہشت گرد کمانڈر ساجد، علیم، آفتاب اور فضل الرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے جھلر فورٹ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 27 اور 28 مارچ 2022 کی رات سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع جھلر فورٹ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ ‘کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے، ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت زار سعد اللہ کے نام سے ہوئی’۔
اس سے قبل 26 مارچ کو بلوچستان کے علاقے سبی میں سیکیورٹی فورسز کی نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرکے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سپاہی شہید ہوا۔
آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے شہر سبی کے قریب نگاؤ پہاڑوں کے عام علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی۔
قبل ازیں 21 مارچ کو بھی خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے بلورو میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ 2 جوانوں سمیت 5 افراد شہید ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ پاک فوج کی جانب سے 10 مارچ کو بھی وزیرستان کے قبائلی اضلاع میں خفیہ اطلاعات پر دو آپریشنز کیے گئے تھے، جس میں 4 دہشت گرد مارے گئے تھے اور ان سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔
یاد رہے اس سے قبل سیکیورٹی فورسز کی جانب سے 26 فروری کو خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیر ستان کے علاقے اسپن وام میں خفیہ اطلاعات پر سیکیورٹی آپریشن کیا گیا تھا جس میں ایک دہشت گرد کو ہلاک ہوا تھا۔









