اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کے کہنے پر استعفیٰ دیا، انہیں کسی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا کہ حکومت چھوڑ دیں، ان کی جماعت نے آزادانہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم نے بتایا کہ انہوں نے وزارت قانون سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن ابھی تک منظور ہوا ہے یا نہیں اس کی رپورٹ نہیں آئی، جب وزیر قانون بنا تو خالد بھائی کی اجازت سے بنا، آج جو استعفیٰ دیا ہے وہ بھی خالد مقبول صدیقی کے حکم پر دیا ہے۔ جب استعفیٰ دے رہا تھا تو خالد بھائی نے کہا کہ وزیر اعظم اچھے آدمی ہیں ان کیلئے دعا ضرور لکھنا، میں نے اپنے استعفے میں ان کیلئے دعائیہ کلمات لکھے، ایم کیو ایم بڑی واضح ہے کہ عمران خان ایک اچھے آدمی ہیں، پی ٹی آئی کے اپنے ہی اندر تھوڑی پھوٹ پڑ گئی، یہ بھی ایک بڑا فیکٹر تھا۔
وزارت قانون سے استعفیٰ دے کر آرمی چیف کا کیس لڑنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف بہت زبردست اور انتہائی شریف انسان اور میرے بڑے بھائی ہیں، ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی اس لیے ان کا کیس لڑا، ان کا کیس لڑنے کیلئے کسی سے اشارہ نہیں بنا، ایسا نہیں ہے کہ خالد مقبول صدیقی کی رضا مندی کے بغیر وزیر قانون بنا۔
کس کے اشارے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کی؟ اس سوال کے جواب میں فروغ نسیم نے اینکر پرسن سے کہا جہاں بھی اپ کا اشارہ ہے، جس ادارے کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں سے کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا، نہ ہی کوئی ہدایات دی گئیں، آزادانہ طور پر ایم کیو ایم نے یہ فیصلہ کیا ہے، فی الحال تو اپوزیشن کے ساتھ ہونے والا معاہدہ حتمی ہے، ایم کیو ایم اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرتی، پاکستان کے مفاد کی کوئی ایسی بات آجائے تو وہ بات دوسری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی آج بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تو انہیں بہت خوش پایا، انہوں نے کہا کہ مل کر سندھ کیلئے کام کریں گے، ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ آپ کے ساتھ تحریری معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، پیپلز پارٹی کے ساتھ ماضی میں تحریری معاہدے بھی ہوئے لیکن ان کی پاسداری نہیں کی گئی اس لیے تحریری معاہدے کی ضرورت پیش آئی۔









