بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب کے تماشے نے پورے ملک کو تماشا بنا دیا،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان غربت، بے روزگاری، مہنگائی پر اتفاق، کرسی اور مفادات پر اختلاف ہے، تینوں کی نظر پنڈی کے گیٹ نمبر4سے نہیں ہٹ رہی۔ مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورت حال بحران کا شکار، ڈار ڈالر لائے نہ کہیں شہباز سپیڈ نظر آئی۔ پنجاب کے تماشے نے پورے ملک کو تماشا بنا دیا، یہ واضح ہے کہ حکومت وزیراعلیٰ کی ہو یا گورنر راج، عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔ ٹرائیکا کو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں، تینوں نے مل کر ملک کو بند گلی میں دھکیل دیا۔ عوام میں حکمرانوں کے خلاف لاوا پک رہا ہے، وہ وقت قریب ہے جب مظلوموں کے ہاتھ ان کے گریبانوں میں ہوں گے۔ حقیقی احتساب اور شفاف الیکشن ہوا تو ملک پر مسلط حکمران اشرافیہ کا صفایا ہو جائے گا۔ وہ منصورہ میں مختلف وفود اور جامعہ منصورہ سندھ کے طلبہ سے ملاقات کر رہے تھے۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ مرکز اور صوبوں میں قائم حکومتیں نااہل اور منحوس ہیں، ان کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، لوگوں کی قوت خرید ختم ہو گئی، اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں، ضروری ادویات غائب، فی کلو آٹا 130روپے کلو تک پہنچ گیا ہے، تاجرکنگال، کاشتکار پریشان اور پڑھے لکھے نوجوان مستقبل سے مایوس بیرون ملک جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ملک کا ہر پانچواں شہری ڈپریشن کا شکار ہے۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں مندی اور شرح نمو نیچے جا رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 6.7ارب ڈالر سے نیچے، ترسیلات زر اور برآمدات میں کمی اور مجموعی قومی قرضہ 62ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ سندھ کی صورت حال بدتر ہے، متاثرین سیلاب کو تاحال ریلیف نہیں ملا، کراچی اور اندرون سندھ لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ غربت اور بے روزگاری انتہا کو پہنچ گئی، بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند، وڈیرہ راج اور پولیس اور مقامی بیوروکریسی ان کی وفادار ہے۔ اندرون سندھ کا کاشتکار طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے، سیلاب ان کا سب کچھ بہا کر لے گیا، مگر حکمرانوں نے سرکاری اور بین الاقوامی امداد اپنے بنگلوں میں رکھی ہوئی ہے۔امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی الیکشن چاہتی ہے، مگر اس سے قبل انتخابی اصلاحات ضروری ہیں۔ سویلین بالادستی اور احتساب کا کڑا نظام ملک کو بہتری کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے مل کر احتساب کے نظام کو ملیامیٹ کر دیا، پی ٹی آئی نے نیب کے دانت نکالے تو پی ڈی ایم نے اس کے پر کاٹ دیے۔ طاقتور قانون کا مذاق اڑاتا ہے جب کہ غریب کی گردن معمولی غلطی پر پھنس جاتی ہے۔ حکمرانوں کے نام پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں آئے، مگر ان سے کسی نے جواب طلبی نہیں کی، حکمرانوں نے اربوں کے قرضے معاف کرائے، مگر کسی سے نہیں پوچھا گیا، یہ سب مل کرملک کو لوٹ رہے ہیں اور دہائیوں سے وسائل پر قابض ہیں، ان کی وجہ سے ہی عوام محرومیوں کا شکار ہے، لوگوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، ایک طرف دوفیصد اشرافیہ دولت کے انبار پر بیٹھی ہے اور دوسری جانب لاکھوں کروڑوں غریب دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں،جمہوریت کی بات کرنے والی نام نہاد بڑی سیاسی جماعتیں خود جمہوریت کے تصور سے ناآشنا ہیں، ان کے ہاں کبھی شفاف اندرونی الیکشن نہیں ہوئے، حکمران جماعتوں پر خاندانوں اور چند افراد کی اجارہ داری ہے۔ قوم کو ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا، اسلامی نظام ہی تمام مسائل کا حل ہے اور جماعت اسلامی ہی ملک میں قرآن و سنت کے نظام کی علمبردار ہے، عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ اسی فرسودہ نظام کے ساتھ رہنا ہے یا اپنے اور آئندہ نسلوں کے لیے اسلامی فلاحی پاکستان چاہیے۔