اسلام آباد(ممتاز نیوز)صدر ایگری فورم پاکستان ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ 2022زراعت کےلئے بدترین سال رہا ،حکومت کو اس شعبے کی بہتری پر توجہ دیناہوگی۔اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ زراعت کانہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردارہے بلکہ افغانستان کے کروڑوں لوگ بھی پاکستانی زراعت پر ہی انحصار کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی کل آبادی تقریباً25کروڑ ہے ،چنانچہ ہمیں سالانہ 30ملین گندم پیدا کرنی چاہیے ،آبادی بڑھنے کے ساتھ چاول کی مانگ میں بھی بڑھ گئی ہے ،چاول کی پیداوار 8سے 10ملین ٹن تک بڑھانے کی ضرورت ہے ،چاول کے ریٹ لوکل اور بین الاقوامی سطح پر دوگنا ہوگئے ہیں،چاول اتنا پیداکرنا چاہیے جس سے 3سے 4بلین ڈالر کی ایکسپورٹ بھی کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دور حکومت میں کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا خاص طور پر یوریا کی قیمت میں دوگنا اضافہ ہواجس سے لوگوں نے کھاد کا استعمال کم کردیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ گنے کی اچھی اقسام آگئی ہیں لہذاگنے کی پیداوار زیادہ کرنی چاہیے ۔ابراہیم مغل نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ گارمنٹس اور فیبرکس ،لائیوسٹاک پر توجہ مرکوز کرے۔
2022زراعت کیلئے بدترین سال رہا،حکومت کواس شعبے پر توجہ دیناہوگی،ابراہیم مغل








