بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تین دن سے جو کہہ رہا تھا، سچ ثابت ہوا: سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور (ممتاز نیوز) رہنما پاکستان تحریک انصاف اور سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا ہے کہ 3 دن سے جو کہہ رہا تھا وہ سچ ثابت ہوا، گورنر اپنی اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں، بتائیں کہ میرا مؤقف درست نکلا یا گورنر صاحب کا۔
میڈیا سے گفتگو میں سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ چودھری پرویز الہٰی کو سزا نہیں ملنی چاہیے تھی، میرا اور گورنر کا جھگڑا چل رہا ہے، جب میرا گورنر سے مسئلہ ختم ہوگا تو چودھری پرویز الہٰی کا اجلاس سپیکر نے بلانا ہے یا وزیراعلٰی نے بلانا ہے، پرویز الہٰی پر ایسے ہی نزلہ گرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 130 کلاز 7 میں کہا گیا ہے کہ گورنر نیا اجلاس بلائیں گے جس میں اعتماد کے ووٹ کا کہا جائے گا، پہلے انہوں نے عدم اعتماد بھیجی جب میں نے ٹی وی پر نقطہ اٹھایا تو آج صبح تحریک واپس لے لی، عدالت میں بیان حلفی اس وجہ سے دینا پڑا کہ جب اعتماد کا ووٹ اور عدم اعتماد ختم ہو تو ہمارا اصل ٹارگٹ کچھ اور ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ صدر کو بھجوانے کے لئے ہمارا لیٹر تیار تھا، جب اڑھائی بجے کام ہو گیا تو ہم عدالت گئے، میں جلد بازی نہیں کرتا اور مجھے خدشہ تھا کہ ہمارا صدر کو لکھا خط رکاوٹ نہ بن جائے، خط روکنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ عدلیہ فیصلہ سنائے تو پھر خط بھجوایا جائے۔
سبطین خان کا مزید کہنا تھا کہ 11 جنوری تک اب ہم اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے، عدم اعتماد انہوں نے وزیراعلیٰ والی واپس لی ہے میری اور ڈپٹی سپیکر والی نہیں، عدالت اگر طلب کرتی ہے تو میں حاضر ہوں گا، میری کیا جرات کہ عدالت نہ جاؤں۔
دریں اثنانجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے سبطین خان نے کہاکہ عدالت کا فیصلہ ہمارے موقف کی تائید ہے،گورنرکاآئینی حکم ہوتا تو آج کا عدالتی حکم کیوں آتاگورنرنے جتنے بھی نکات اٹھائے وہ ہمارے اندرونی معاملات تھے۔انہوں نے کہاکہ فیصلہ ہواتھا کہ 23دسمبرکودونوں اسمبلیاں توڑدیں گے، ہم اسمبلی خود توڑناچاہتے ہیں،عوام کے پاس جاناچاہتے ہیں تو انہیں کیاتکلیف ہے؟ ۔انہوں نے کہاکہ عدالت نے کہاہے کہ 11 جنوری سے کیس کی سماعت کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ نے بیان حلفی دیاہے کہ 11جنوری تک اسمبلی نہیں توڑیں گے۔انہوںنے کہاکہ اب یہ ہمارا فیصلہ ہوگاکہ 11جنوری سے پہلے یا بعد میں اعتماد کا ووٹ لیں جاری سیشن میں ہی وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ لے لیں گے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا عدم اعتمادلانے کا حق محفوظ ہے۔