اسلام آباد (ممتاز نیوز) صدر تحریک دفاع حرمین شریفین ڈاکٹر علی محمد ابو تراب’ مرکزی رہنماء پروفیسر سجاد قمر نے کہا ہے کہ انتشار اور افتراق ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔پاکستان کے استحکام کے لیے ایک قومی میثاق کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر رضوان قاضی، جنرل سیکرٹری حسین احمد چوہدری اور کابینہ کے اعزاز میں ڈاکٹر علی محمد ابو تراب کی طرف سے دیے گئے عشائیہ کے موقع پر سئینیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عشائیے میں صدر تحریک دفاع حرمین شریفین ڈاکٹر علی محمد ابو تراب نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ماحول سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔معاشرتی، معاشی اور تہذیبی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر ملک کے وقار میں کمی ہو رہی ہے۔ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے چکر میں قومی ناموس کو بھی مٹی میں ملایا جا رہا ہےبرداشت اور تحمل کا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ڈاکٹر علی محمد ابو تراب نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک بڑے میثاق کی ضرورت ہے۔قومی قیادت کو اس پر سوچنا چاہیے۔جہاں تک بات پہنچ گئ ہے وہیں رک جائے تو بہتر ہے،سیاست کریں لیکن شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔انھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔میڈیا سنسنی سے اب آگے بڑھ کر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جانا چاہیے۔سنسنی خیزی اور مسلسل منفی خبروں کی بجائے ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ ملک ترقی کرے اور لوگوں میں مایوسی کی بجائے حوصلہ پیدا ہو۔قطع نظر اس کے کہ کس کی حکومت ہے،تحریک دفاع حرمین شریفین کے رہنماء پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ پاکستان کا استحکام سب سے مقدم ہے۔اس پر ہر سطح اور نقطہ نظر کا اتحاد اور اتفاق اولین ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ عامل صحافی عوام تک صحیح صورت حال پہنچانے کے لیے جہاد میں مصروف عمل ہیں،صبح سے شام تک بھوک پیاس کی پروا کیے بغیر کام کرتے ہیں۔کورٹ رپورٹر کا کام زیادہ ذمہ داری کا ہے۔وہ دو دھاری تلوار پر چل رہے ہوتے ہیں۔صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔اس کو مضبوط کرنا ریاست کے ساتھ ساتھ میڈیا مالکان کی بھی ذمہ داری ہے۔ عشائیے میں اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدور اسد ملک ، وقار عباسی ، اویس یوسفزئی، ثاقب بشیر ،عامر سعید عباسی سابق سیکرٹری و ممبران احتشام کیانی، حسیب ملک ، بشارت راجہ ، سھیل رشید، آصف نوید ، عادل تنولی، محمد عمران، شاہ خالد، عمر برنی، عادل عباسی ، عمران منصب خان ، فرح مہ جبین، امبرین علی نے شرکت کی۔










