فیصل آباد( معظم رندھاوا) پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کرپشن کے الزام میں ڈی جی اینٹی کرپشن کے حکم پر لاہور اینٹی کرپشن ٹیم کا فیصل آباد کے اینٹی کرپشن ریجنل ڈائریکٹوریٹ پر چھاپہ، مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ریجنل ڈائریکٹر چھاپے کی بھنک پڑنے پردفتر سے رفو چکر ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ایک شہری محمد یاسین کی جانب سے ڈی جی اینٹی کرپشن کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایوب خان بلوچ اور اینٹی کرپشن کے دیگر آٹھ ملازمین نے محکمہ اینٹی کرپشن میں درج کروائے گئے ایک مقدمہ میں تین بار گرفتار ہونے والے نامزد ملزم فیصل رفیق کو مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا جس کی گرفتاری کا تمام تر ریکارڈ موجود ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے متعدد بار محمد یاسین کی درخواست پر موقف پیش کرنے کے لیے ریجنل ڈائریکٹر سمیت نو اہلکاروں کو طلب کیا لیکن تمام اہلکار پیش نہ ہوئے جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن نے احمد سیف کی قیادت میں چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی جس نے گزشتہ روز اچانک ریجنل ڈائریکٹوریٹ اینٹی کرپشن فیصل آباد کے دفتر میں مبینہ کرپشن میں ملوث ریجنل ڈائریکٹر سمیت دیگر اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چاھاپہ مارا جس دوران چھاپے کی اطلاع ملنے ہر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سمیت ملوث تمام اہلکار فرار ہو گئے اور اینٹی کرپشن ٹیم کا اپنے ہی دفتر میں مارا جانے والا چھاہہ ناکام ہو گیا جس پر متاثرہ شخص نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔










