بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،احسن ظفر بختاوری

دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو قریب لانے کیلئے کردار ادا کروں گا،اکنامک منسٹر ڈاکٹر عرفان شاہ


اسلام آباد(ممتازنیوز)صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ 4,940.9 بلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان پاکستان کیلئے معاشی،تجارتی اور سفارتی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ پاکستان اور جاپان کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔دونوں ممالک کے در میان تجارتی روابط کی مزید بہتری کیلئے کئی امکانات موجود ہیں۔جاپان دنیا کی عمر رسیدہ ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔پاکستان جاپان کو ہیلتھ ورکرز بلخصوص نرسز فراہم کر سکتا ہے۔ جاپانی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں خشک دودھ اور آٹو موبائیل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔اس حوالے سے سفارتخانے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جاپان کیلئے نامزد پاکستانی اکنامک منسٹر ڈاکٹر عرفان عباس شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے چیمبر کے دورے کے دوران ان سے ملاقات کی۔صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ جاپان کو دنیا بھر سے ہنر مند ورکرز کی شدید ضرورت ہے۔پاکستان اور جاپان کا اس حوالے سے معاہدہ موجود ہے جس پر فوری عمل آمد کی ضرورت ہے۔حکومت سیمڈا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے اعتماد میں لے کر جامع پالیسی تشکیل دے،پاکستانی نوجوانوں کو جاپانی زبان سیکھانے کیلئے کورسز کروائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گاڑیوں کے پارٹس باہر سے منگوا کر اسمبل کیے جاتے ہیں۔ جاپان کے تعاون سے پاکستان میں مینو فیکچرنگ کو فروغ دینا چاہیے جس سے ایک طرف تو روزگار کی فراہمی میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف مقامی سطح پر انڈسٹری کو بھی فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جاپان پاکستان میں بچوں کے دودھ کا پلانٹ لگائے،اس شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔۔ جاپان سے پاکستان میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر منصوبے پر کام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی سرمایہ کاروں کو گوادر میں سٹوریج کی تعمیر کیلئے قائل کرنے کی ضرورت ہے اس سے نہ صرف سرمایہ کاری پاکستان آئے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اکنامک منسٹر ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا کہ جاپان کونوجوانوں کی کمی کے باعث سکلڈ ورکرز کی اشد ضرورت ہے،اس حوالے سے پاکستانی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جاپان کیلئے پاکستانی برامدات کا حجم چار سو سے پانچ سو ملین ڈالر ہے جس کو کئی گناہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ماضی میں جاپان کی طرف سے پاکستان میں آٹو موبائیل سیکٹر میں تین پلانٹ لگائے گئے ان پلانٹس کو اسمبلنگ کے بعد مینوفیکچرنگ کی طرف جانا تھامگر کئی وجوہات کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔پاکستان میں سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کیلئے جاپانی سرمایہ کاروں کو قائل کریں گے۔دونوں ملکوں میں تمام شعبوں میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کیلئے گنجائش موجودہ ہے۔اسلام آباد چیمبر کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ بزنس کمیونی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہوں گا اور دونوں ملکوں کے بزنس کمیونٹی کو قریب لانے میں ہر ممکن کردار ادا کروں گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر چیمبر انجینئر اظہر اسلام نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ جاپان میں مارکیٹ کا سروے کروائے،جس میں کچھ اشیاء کی ترجیحی لسٹ بنائی جائے کہ پاکستان سے جاپان کیا برآمدکیا جا سکتا ہے،وہاں کی کوالٹی سے آگاہی حاصل کی جائے تاکہ مقامی انڈسٹری اس پر توجہ دے۔