ٹی وی کی مقبول سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ 40برس کی عمر کے بعد عورت کی کوئی زندگی نہیں ہوتی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ صنفی تعصب اور عمر کی بنِا پر تعصب کرنے والوں سے بھرا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے کہ چالیس سال سے زیادہ عمر کی عورت کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، اس کی زندگی کا مقصد اس کے بچے ہوتے ہیں اور اگر وہ کسی کی ماں نہیں ہے تو اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا بہت ضروری ہے۔
ثانیہ سعید نے کہا کہ ہمارے ڈراموں کے مطابق اگر کسی عورت کی فیملی نہیں ہے تو اس کی کوئی زندگی نہیں ہے یا تو اس عورت کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یا وہ ہر وقت دوسروں کو چائے پلانے میں مصروف ہوتی ہے۔
ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ 32 سال سے ان کی موٹی ویشن، لوگ، زندگی، کہانیاں، نظریات اور زاویے رہے ہیں۔
اداکارہ ثانیہ سعید نے فلم کیریئر کا آغاز 2015 ء میں فلم ’’منٹو‘‘ سے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے2019 ء میں فلم ’’باجی‘‘ میں ایک چھوٹا مگر اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ فلموں میں کام کرنے کے لیے فلم کی آفر ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول جب مجھے فلم آفر ہی نہیں ہوگی تو میں اس میں کام کیسے کروں گی۔
ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اسکرپٹ کے بغیر کوئی پراجیکٹ آفر ہوگا تو میں اسے کرنے سے معذرت کرلوں گی۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں اداکاری کا اتنا زیادہ شوق نہیں جتنا یہ شوق ہے کہ وہ کردار اچھا لگنا چاہیے جو میں ادا کر رہی ہوں۔









