بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آن ٹی وی کا ایک سال کامیابی کے سفر کی داستان

آن ٹی وی کی نشریات کو اکتوبر 2023 میں ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ اس چینل کی افتتاحی تقریب وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی تھی۔ تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم محمد شہباز شریف سمیت کئی نامور شخصیات نے شرکت کی تھی جن میں سرکاری حکام، میڈیا کے نمائندگان اور براڈکاسٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

اس موقع پر شہباز شریف نے ناظرین کے لیے تفریحی کے بہترین پلیٹ فارم کی فراہمی میں آن ٹی وی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ آن ٹی وی نہ صرف ناظرین کے لیے اچھا مواد مہیا کرے گا بلکہ پاکستان کی اقدار و روایات کی پاسداری بھی کرے گا۔ اس پرمسرت موقع پر اطلاعات و نشریات کی سابق وزیر مریم اورنگزیب، سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ اور ایم نیٹ ورک کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔
آن ٹی وی نے سکرین تفریحی کے شعبے میں اپنے ایک سال کے سفر کے دوران نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ملک کے اس پہلے ایچ ڈی انٹرٹینمنٹ چینل نے اپنی نشریات کے آغاز لے کر اب تک یکے بعد دیگرے ناظرین کی دلچسپی کے حامل کئی پراجیکٹس اور مقبول ڈرامے پیش کیے جن میں نہ صرف پاکستانی معاشرے بلکہ مشرقی اور اسلامی روایات و اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا اور انہیں ترویج بھی دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ بعض ایسے اہم ایشوز پر پروگرامز بھی ناظرین کے پیش نظر کیے گئے ہیں جن پر ہمارے معاشرے میں بات کرنا تو در کنار، ان کے بارے میں سوچنے سے بھی اجتناب برتا جاتا ہے۔

 

 

ناظرین کو جہاں ایک طرف عشق نہیں آساں، میری گڑیا، میری بیٹیاں، عدن، ہاسٹل، میری ہے کیا خطا اور ضدی جیسے دلچسپ اور سبق آموز ڈرامے دیکھنے کو ملے جن میں ڈرامہ انڈسٹری کے جن بڑے ناموں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان میں جاوید شیخ، اعجاز اسلم، حبابخاری، اریز احمد، لیلٰی واسطی، سنیا شمشاد، منشاء پاشا، جنید خان، حنا الطاف، اسامہ خان، ایمن زمان خان اور اظفر رحمان جیسے معروف،متنوع و سدابہار اداکار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آن ٹی وی نے اپنے بعض ڈراموں میں معاشرے کے ایسے مسائل کو اجاگر کیا جن پر بات کرنے سے اکثر لوگ کتراتے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

 

ان میں سرفہرست ہم دو ہمارے سو، اعتراف اور اب میری باری جیسے ڈرامے ہیں۔ ان ڈراموں میں معاشرتی مسائل، معاشی تنگی، مشرقی اور مغربی تہذیب میں فرق، انسانی رشتوں کے درمیان آنے والی خلش، زندگی کی تلخیاں اور خواتین کے حقوق پر بہتزین رہنمائی اور آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

مزید برآں آن ٹی وی نے کسی ایرانی ڈرامہ کو پاکستان میں پہلی بار متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

 

ایرانی تاریخی ڈرامہ ’’جیران‘‘ کو جب پاکستانی سکرین پر پیش کیا گیا تو اس قدم کو نہ صرف ناظرین بلکہ ڈرامہ انڈسٹری کے معروف و نامور ہدایت کاروں نے بھی بے حد سراہا۔

ترکش ڈرامہ ’’الپ ارسلان‘‘ بھی آن ٹی وی کی جانب سے پیش کیا گیا تاکہ ناظرین مختلف طرح کے تفریحی مواد سے لطف اندوز ہو سکیں۔

 

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آن ٹی وی نے پاکستان کا پہلا جونیر شیف آف پاکستان متعارف کرایا جس کی ہوسٹ ماسٹر شیف عمارہ نعمان تھیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور نامور شو ہے جس میں کوکنگ کے مقابلے میں بچوں نے شرکت کی۔یہ شو بچوں بڑوں میں یکساں مقبول ہوا۔
مختصر یہ کہ آن ٹی وی نے اپنے ناظرین سے جو وعدے کیے تھے وہ اپنے اس ایک سال کے سفر میں نبھائے۔ پاکستان میں ناظرین کو سکرین پر پہلی بار نہ صرف اچھا اور متنوع تفریحی مواد دیکھنے کو ملا بلکہ انہیں بہت سے ایسے ڈرامے بھی دیکھنے کو ملے جن سے معاشرے میں بہتری کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یقیناً آ ن ٹی وی کی یہ کاوش سرائے جانے کے لائق ہے۔ ناظرین کا کہنا ہے کہ ہم بہت اشتیاق سے آن ٹی کے نئے آنے والے شوز اور پروگراموں کے منتظر ہیں۔ یقیناً آن ٹی وی کے لیے ناظرین کی توقعات پر پورا اترنا اور انٹرٹینمینٹ انڈسٹری میں اپنی اس منفرد پہچان اور مقام کو قائم و دوائم رکھنا ایک چیلنج ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ چینل اپنے منفرد ڈراموں اور شوز سے ناظرین کے دل کیسے جیتتا ہے؟