اسلام آباد(ممتازنیوز) سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہوئی، اسے توڑا اور پامال بھی کیاگیا ہے۔ ملک میں بحران، ابہام اورکنفیوژن پیدا کرکے عدالت کے دو جج صاحبان تفریحی دورے پر نکل گئی ہے ، ایسا اس لئے کیاگیا ہے کہ تفریحی دورہ مکمل ہونے تک ملک، معیشت، پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن سب لٹکے رہیں، پی ٹی آئی کے لئے وسیع تر انصاف کا تصور پیدا کرکے آپ آئین اور قانون کے دائرے سے نکل گئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ خواجہ آصف نے آئینی میلٹ ڈاﺅن کی بات اپنے سیاسی تجربے، تجزیے اور اندازے کی بنیاد پر کی ہے،کوئی خبر نہیں دی۔ کچھ وجوہات اور محرکات ہیں تو انہوں نے یہ بات کی، ہوا میں تیر نہیں چلایا۔ جب عدالت یا ادارے اپنی طے کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ملک بحرانوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں، اسے آئینی میلٹ ڈاون ہی کہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی ایک انتخابی اصلاحات کمیٹی 2015 میں بنائی گئی تھی جس میں پی ٹی آئی بھی شامل تھی۔ 118 اجلاسوں میں پی ٹی آئی کے اتفاق رائے کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کی پارلیمنٹ نے منظوری دی تھی۔ الیکشن ایکٹ کے مطابق اسمبلی کا حلف اٹھانے کے تین دن کے اندراندر آزاد رُکن اپنی پسند کی جماعت میں شامل ہوگا۔ حالیہ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان اپنی مرضی سے ، بیان حلفی جمع کراکے، سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔ آئینی اور قانونی طورپر یہ مشق ختم ہوچکی۔لیکن سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین اور قانون جائے بھاڑ میں ، سنی اتحاد کونسل کے ارکان پی ٹی آئی میں جائیں گے۔ کیا آئین اب ایک جماعت کا حصہ بن جانے والے رُکن کو کسی دوسری جماعت میں جانے کی اجازت دیتا ہے ؟ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ ٹوٹل انصاف کا تصور تحریری آئین کی حدود سے تجاوز ہے۔ ٹوٹل انصاف کا تصور پنچایتی ہے۔ عدالتیں آئین اور قانون کی پابند ہوتی ہیں۔جہاں آئین کی شق واضح ہو وہاں تشریح اور تعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس میں کوئی اضافہ یا تحریف آئین کو دوبارہ تحریرکرنا یا ری رائٹ کرنا ہوتا ہے۔ آئین اور قانون میں ارکان کو تین دِن دئیے گئے تھے تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں 15دِن کہاں سے آگئے ؟یہ میکنزم اس لئے رکھا گیا ہے کہ تفریحی دورے سے واپسی تک یہ معاملہ لٹکا رہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تفصیلی فیصلہ جب تک نہیں ہوگا، نظرثانی پر سماعت نہیں ہوسکے گی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ یہ ”تا تریاق از عراق آوردہ شود، مارگزیدہ مردہ شود( جب تک عراق سے تریاق آتی ہے سانپ کا ڈسا مرجائے گا)کے مترادف ہے۔پی ٹی آئی پر پابندی کے سوال پر سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر نے کہاکہ وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ ایک ذمہ دار شخص اور ترجمان ہیں۔ یقینا کہیں نہ کہیں یہ فیصلہ ہوا۔کسی جماعت پر پابندی لگانے یا نہ لگانے سے قطع نظر آئین کے آرٹیکل 17کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دانشوروں کی کمیٹی بنا دی جائے جو دیکھے کہ آئین کی یہ شق کسی جماعت کے لئے کیا شرائط طے کرتی ہے۔اس میں ملک کی سالمیت،خودمختاری، پبلک آرڈر ، موریلیٹی کے الفاظ لکھے ہیں۔ ریاست کے 200 سے زائد مقامات پر حملہ کرنے، قومی مفادات کو نقصان پہنچانے، ڈیفالٹ کرانے کی سازش کرنے، شہداءکی بے حرمتی کرنے، فوج میں بغاوت کرانے والی جماعت آئین کے آرٹیکل 17 کی شرائط پر پورا اترتی ہے اور اگر نہیں اترتی تو یقینا اس کے بارے میں سوچا جانا چاہیے۔
ملک میں بحران، ابہام اورکنفیوژن پیدا کرکے عدالت کے دو جج صاحبان تفریحی دورے پر نکل گئے ہے، سینیٹر عرفان صدیقی








