لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے سرحد پار درجنوں راکٹ کے حملوں اور تل ابیب پر میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے شمالی سرحد پر فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے اس ہفتے سزا دینے والے فضائی حملے ’آپ کے ممکنہ داخلے کے لیے زمین کو تیار کرنے اور حزب اللہ کو مسلسل نیچا دکھانے کیلئے کیے گئے تھے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حملوں میں حزب اللہ کے ہتھیاروں اور راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا جس میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ لبنان کے حکام صحت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک چوتھائی خواتین اور بچے شامل ہیں۔
تل ابیب پر داغے گئے میزائل سے متعلق جنرل ہيرتسی ہاليفی نے فوجیوں سے کہا کہ آج، حزب اللہ نے اپنے حملے کا دائرہ کار بڑھایا، اور آج کے بعد، انہیں بہت سخت جواب ملے گا۔ اپنے آپ کو تیار کریں تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ حزب اللہ کے خلاف زمینی کارروائی، فضائی حملوں یا کسی اور قسم کی انتقامی کارروائی کا حوالہ دے رہا تھے۔ حزب اللہ لبنان کی سب سے مضبوط سیاسی قوت ہے اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے، لیکن عرب دنیا میں اسے ایک بڑی غیر سرکاری فوجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ اس کا (لبنان پر) فوری طور پر زمینی حملے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، لیکن اسرائیلی آرمی چیف کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسرائیلی فوج سرحد پار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے جنوبی شہر ایلات کی ایک بندرگاہ پر ایک عمارت کو ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ایک گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ دوسرے ڈرون کو مار گرایا گیا۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تناؤ میں 11 ماہ قبل غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے شدت آ گئی ہے۔ حزب اللہ غزہ میں فلسطینیوں اور حماس کے ساتھ یک جہتی کے لیے شمالی اسرائیل پر راکٹ، میزائل اور ڈرونز سے حملے کر رہا ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور حزب اللہ کے کمانڈرز کو قتل کر کے جواب دے رہا ہے جبکہ اس نے ایک وسیع آپریشن کی دھمکی بھی دی ہے۔
حالیہ کشیدگی سے قبل تقریباً ایک برس سے جاری جنگ کی وجہ سے دونوں اطراف میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔









