واشنگٹن: امریکی کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم نے بھارت کو اقلیتوں سے شدید زیادتیوں اور مظالم کا مرتکب قرار دے دیا۔
امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سال رواں کے دوران انتہاء پسند گروپوں نے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو قتل کیا، مارا پیٹا اور مذہبی رہنماؤں کو بے بنیادی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور مکانات کو منہدم کیا گیا، یہ تمام واقعات مذہبی آزادی سے متعلق آدرشوں اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر مشتمل ہیں،اقلیتوں سے متعلق گمراہ کن باتیں پھیلائی جاتی ہیں، غلط بیانی کے ذریعے منافرت کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے واقعات بھی رونما ہوئے کہ حکام نے منافرت پھیلانے والی تقریریں کرکے لوگوں کو مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں اور اُنکی عبادت گاہوں پر حملوں کیلئے اُکسایا۔
امریکی کمیشن کی رپورٹ میں کہاگیا کہ مذہبی اقلیتوں کو اُنکے حقوق سے محروم کرنے کیلئے بھارتی مجموعہ قوانین میں تبدیلیاں کرکے نئے، امتیازی قوانین نافذ کیے گئے، ان میں سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ، یونیفارم سول کوڈ اور ریاستی سطح کے کئی اینٹی کنورژن اور گائے کا ذبیحہ روکنے کے قوانین شامل ہیں۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کو ایک ایسا ملک قرار دے جس کے بارے میں مذہبی آزادیوں سے متعلق شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
بھارت نے حسب روایت امریکی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کردیا ۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا امریکی محکمہ خارجہ کا خاص سیاسی ایجنڈا ہے،بہتر ہے کہ وہ اپنے ملکمیں انسانی حقوق کی صورتِحال پر توجہ مرکوز رکھے۔









