بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بائیڈن کی نیتن یاہو سمیت عالمی رہنماؤں کو گالیاں

واشنگٹن: امریکی صحافی نے صدر جو بائیڈن کی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات پر غلطیوں کے اعتراف سے بھرپور اپنی   نئی کتاب جاری کی ، جس میں بائیڈن کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر کی گئی تنقید بھی شامل ہے۔
صحافی باب ووڈورڈ کی  کتاب میں صدر جو بائیڈن کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کیلئے انکی جدوجہد کا ذکر کیا گیا   کتاب میں اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی تک پہنچانے کی ناکام کوششوں پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ناراضگی شامل ہے۔
امریکی ٹی وی ”سی این این“ کے مطابق  ووڈورڈ نے بائیڈن کی جانب سے ذاتی اور سیاسی چیلنجوں پر گفتگو کے دوران بار ہا دی گئی گالیوں کا بھی ذکر کیا۔
ووڈورڈ لکھتے ہیں کہ جب غزہ میں اسرائیل کی جنگ میں شدت آئی توجو بائیڈن نے 2024 کے موسم بہار میں اسرائیلی وزیر اعظم   بارے ایک ساتھی کے سامنے نجی طور پر بات کرتے ہوئے کہا، ”وہ ٭٭٭ کا بچہ، بی بی نیتن یاہو، وہ ایک برا آدمی ہے، وہ ٭٭٭ برا آدمی ہے!“۔
جوبائیڈن نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو ”برائی کا مظہر“ قرار دیا، نیتن یاہو کو ”جھوٹا“ قرار دیتے ہوئے کہا  انہیں امریکی اٹارنی جنرل کے طور پر میرک گارلینڈ کو ”کبھی نہیں چننا چاہیے تھا۔
ووڈ ورڈ نے لکھا  روس کے یوکرین پر حملے کے کچھ ہی عرصہ بعد بائیڈن نے اوول آفس میں مشیروں سے کہا ”یہ ٭٭٭ پوٹن“۔ ”پیوٹن شیطان ہے، ہم برائی کے مظہر سے نمٹ رہے ہیں۔“
کتاب کے مطابق اپریل میں ہونیوالی ایک فون کال کے دوران بائیڈن نیتن یاہو پر بھڑک اٹھے تھے۔
ووڈورڈ کے مطابق بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے  پوچھا، ”تمہاری حکمت عملی کیا ہے، یار؟“ نیتن یاہو نے جنوبی غزہ کے شہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں رفح جانا ہے۔
بائیڈن نے جواب دیا ”بی بی، تمہارے پاس کوئی حکمت عملی نہیں۔