اسلام آباد(طارق محمودسمیر)پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکی پابندیوں کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے ڈٹ کر پاکستان کا موقف بیان کردیاہیاور انہوں نے حقیقی معنوں میں پاکستانی قوم کے جذبات کی نمائندگی بھی کی ہے،پاکستان ایٹمی ہویامیزائل پروگرام ہو،دونوں قومی سلامتی کے لیے ناگزیرہیں اور کسی بھی حکومت نے اب تک پاکستان کی قومی سلامتی کے ایشوپرامریکہ سمیت دیگرممالک کا دباؤقبول نہیں کیا،حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی تین کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے جب کہ 2021میں بھی اسی نوعیت کی پابندی لگائی گئی تھی ،گوکہ دفترخارجہ نے بروقت ردعمل دے دیاتھا لیکن وزیراعظم کی طرف سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم باتیں کی گئی ہیں،وزیراعظم کاکہناہیکہ پاکستان کامیزائل اور ایٹمی پروگرام قومی سلامتی اور اپنے دفاع کے لیے ہے ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں،پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتارچڑھاؤآتارہاہے،ایک وقت تھا جب وزیراعظم شہبازشریف کے بڑے بھائی میاں نوازشریف 1998میں وزیراعظم تھے اور بھارت نے ایٹمی تجربات کئے تو نوازشریف نے سابق امریکی صدربل کلنٹن کی طرف سے پانچ ملین ڈالرکی رقم کے عوض ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی پیشکش کی لیکن نوازشریف نے ملک اورقوم کے بہترین مفاد میں ایٹمی تجربات کئے جس کے نتیجے میں پاکستان کادفاعی نظام مضبوط ہوا،اگر اس وقت ایٹمی دھماکے نہ کئے ہوتے تو 2001میں جب پرویزمشرف کے دورمیں فوجی مشقوں کے نام پر بھارت نے لاکھوں فوجیوں پاکستانی سرحد پر تعینات کردیاتھااور جنگ کی دھمکیاں دی تھیں اگر پاکستان کے پاس ایٹمی قوت نہ ہوتی تو بھارت حملہ کردیتایہ ایٹمی قوت ہی تھی کہ بھارت کو حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی ،امریکہ کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیرکے حل میں پاکستان کاساتھ دے تاکہ خطیمیں مستقل امن قائم ہوسکے،دوسری جانب وزیراعظم نے حکومت ،پی ٹی آئی مذاکرات کا خیرمقدم کیاہے اور اس توقع کا اظہارکیاہے کہ ملکی مفاد میں کمیٹیاں بہترین فیصلہ کریں گی ،وزیراعظم کے اس دوٹوک اعلان کے بعد اب یہ بحث ختم ہوجانی چاہئے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ نہ ہوتی تو وزیراعظم مذاکرات کے حوالے سے کمیٹی نہ بناتے ،تحریک انصاف مذاکرات کاعمل شروع ہونے کیباوجود کنفیوعن کا شکارہے،عمران خان سے جیل میں بیرسٹرگوہرودیگرنے ملاقات کی جس میں عمران خان نے کہاکہ سول نافرمانی کی تحریک واپس نہیں لی جائے گی مذاکرات کا ٹائم فریم طے ہوناچاہئے ،بیرسٹرگوہر ایک سنجیدہ اورسینئر رہنماہیں ،ان کی کوششوں کے نتیجے میں ہی مذاکرات کاعمل شروع ہواہے،سول نافرمانی کی تحریک شروع ہی نہیں ہوئی تو واپس لینے کی بات سمجھ سے بالاترہے،سابق صدرعارف علوی نے نجومیوں والاکام شروع کردیاہے اور دعویٰ کیاہیکہ ڈیڑھ ماہ کے عرصیمیں عمران خان جیل سے باہرآجائیں گے ،ستارے حرکت میں آگئے ہیں،عارف علوی بطورصدرمتنازع رہے ان کی موجودگی میں ہی جنرل(ر)باجوہ کو اقتداردوبارہ دلوانے کی شرط پر تاحیات آرمی چیف برقراررکھنے کی پیشکش کی گئی اب ان کے منہ سے آئین،جمہوریت کی باتیں زیب نہیں دیتی ،دوسری جانب ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان دوریاں کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں،لاہور گورنرہاوس میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ،سپیکرسردارایازصادق،پنجاب اسمبلی کے سپیکرملک احمدخان،سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب ،پیپلزپارٹی کے راجہ پرویزاشرف،ندیم افضل چن اور دیگررہنماشریک ہوئے جس میں پیپلزپارٹی کے تحفظات دورکرنے پر اتفاق کیاگیا،ن لیگ نے جنوری کے پہلے ہفتے تک کا وقت مانگارحیم یارخان اور ملتان کے اضلاع میں ضلعی ترقیاتی کمیٹیوں کی سربراہی پیپلزپارٹی کو دی جائے گی جن حلقوں میں پی پی کامیاب ہوئی ہے وہاں سرکاری افسران کے تقرروتبادلوں کے لیے مشاورت ہوگی اور ترقیاتی فنڈزن لیگ کے ارکان کے مساوی دیئے جائیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات دورکرنے کی کوششیں خوش آئندہیں،پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نوازکوچاہئے کہ وہ پیپلزپارٹی کے تحفظات کودورکرے اور ان کے مطالبات آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پورے کئے جائیں کیونکہ اگرپی پی ناراض ہوتی ہے توپھروزیراعلیٰ کے چچاشہبازشریف کے لیے مسائل پیداہوسکتے ہیں۔
وزیراعظم کامیزائل پروگرام پرامریکی پابندیوں پردوٹوک جواب قوم کے جذبات کی ترجمانی








