بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد میں 30ویں بین الاقوامی پلاسٹک سرجنز کانفرنس کا انعقاد، طبی تحقیق اور تعلیم میں اہم پیش رفت

اسلام آباد میں پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز (PAPS) کی 30ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جسے ملک میں طبی تعلیم، تحقیق اور جدید سرجیکل ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز تدریسی اداروں کے سرجنز کے علاوہ 12 سے زائد بین الاقوامی ماہرین اور 400 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔ شرکاء نے سائنسی مباحثوں، ورکشاپس اور نیٹ ورکنگ سیشنز میں فعال حصہ لیا، جس سے پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال کو فروغ ملا۔

کانفرنس کے دوران جدید نان انویسو (کم دخل اندازی والے) جمالیاتی طریقۂ کار، سرجری میں نئی ٹیکنالوجیز اور جدید طبی تحقیق پر خصوصی سیشنز اور لائیو ڈیمانسٹریشنز بھی پیش کی گئیں، جنہیں شرکاء نے انتہائی معلوماتی اور عملی طور پر مفید قرار دیا۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف عوامی آوازیں بلند، مختلف سیاسی اور مزاحمتی حلقوں میں اتحاد پر زور

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنسیں نہ صرف پاکستان میں طبی معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہیں بلکہ عالمی سطح پر علمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کے نئے دروازے بھی کھولتی ہیں۔

کانفرنس میں شریک ملکی و غیر ملکی ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک کامیاب علمی پلیٹ فارم قرار دیا۔ پروفیسر مامون رشید (شفاء انٹرنیشنل ہسپتال) نے کہا کہ اس کانفرنس کا حصہ بننا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے اور اس کے تعلیمی سیشنز نوجوان اور تجربہ کار سرجنز دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہیں۔

استنبول سے آئے ڈاکٹر شرفیتکے نے کانفرنس کو ایک خوشگوار اور مؤثر علمی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فورمز جونیئر اور سینئر سرجنز کے درمیان سیکھنے اور تعاون کے مواقع بڑھاتے ہیں۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سعید احمد صدیقی نے کانفرنس کے سائنسی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پلاسٹک سرجری کے شعبے میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔

شرکاء کے مطابق یہ کانفرنس پاکستان کے صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی صلاحیت، جدت اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے، جو ملک کو میڈیکل ریسرچ اور ہیلتھ ٹورازم کے لیے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر پیش کر رہی ہے۔