اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کیلئے خطرہ قرار دیدیا۔ ریجنل ڈائریکٹر مشرق وسطیٰ ڈاکٹر المندھیری پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے اور بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ پاکستان پولیو پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔
اقوام متحدہ کی ریجنل سب کمیٹی برائے انسداد پولیو کے پانچویں اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں اجلاس میں جبوتی، مصر، ایران، پاکستان، قطر، سعودی عرب، سوڈان، متحدہ عرب امارات اور یمن کے وزرائے صحت اور نمائندگان سمیت جی پی ای آئی اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
فورم سے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پاکستان پولیو پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے اور موجودہ وقت میں کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، پہلے کیس رپورٹ ہونے کے بعد سے پولیو پروگرام اور وزارت صحت پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں کررہا ہے۔
دنیا میں پولیو سے متاثرہ ممالک پاکستان اور افغانستان سے رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 11 ہوگئی ہے، جن میں 10 کیسز پاکستان اور ایک کیس افغانستان سے رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستان سے تمام کیسز ضلع شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس موقع پر قطر کے وزیر صحت اور علاقائی سب کمیٹی کے شریک چیئرمین ڈاکٹر المندھیری نے کہا کہ ’خطے کے کسی بھی ملک میں وائرس کا پھیلاؤ تمام بچوں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے جس سے ملکی اور علاقائی سطح پر بھی گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں یکجہتی اور مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت دینے کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر حنان الکواری نے تمام بچوں تک ویکسین کی رسائی ممکن بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے خطے کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے وائرس کے خاتمے اور بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور پر ایسے بچوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو پولیو مہمات میں پولیو ویکسین یا حفاظتی ٹیکہ جات سے محروم رہ جاتے ہیں’۔
پاکستان میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کیلئے خطرہ قرار








