اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پاکستان بین الاقوامی سفر پر بزنس کلاس کے فی ٹکٹ پر 50 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے اور موبائل فونز پر لیوی کی منظوری دے دی جبکہ ریئل اسٹیٹ میں فائلر کیلئے ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی مخالفت کردی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، آمدنی و اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا- سینیٹرز طلحہٰ محمود، محسن عزیز، ذیشان خانزادہ، فیصل سلیم، دلاور خان، شیری رحمان، فاروق نائیک، مصدق ملک، فیصل سبزواری کے علاوہ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ممبر کسٹم، جوائنٹ سیکریٹری وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں فنانس بل 2022ء کے سیلز ٹیکس کی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ریسٹورنٹس کی سروس اور پروڈکٹس کو الگ الگ ٹیکس کیا جاتا تھا، ان دونوں کیٹیگریز کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، سی پیک منصوبہ جات میں استعمال ہونیوالے پلانٹ اور مشینری کی امپورٹ پر متعلقہ معاہدے کے مطابق ٹیکس چھوٹ دی جارہی ہے۔
بجٹ میں مکمل طور پر تیار الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس بارہ اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس پر سینیٹر فاروق احمد نائیک کا مؤقف تھا کہ مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہئے لیکن چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر لوگوں کو ٹیکس میں رعایت ملنی چاہئے۔
سینیٹر ذیشان خانزادہ کا کہنا تھا کہ ہمیں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ کمیٹی ارکان کا متفقہ مؤقف تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مختلف سلیبز متعارف کروائے جائیں، 50 کلو واٹ فی گھنٹہ تک کی گاڑیوں پربارہ اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس ہی عائد کیا جانا چاہیے۔
فنانس بل میں پاکستان سے بین الاقوامی سفر کیلئے بزنس کلاس پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ کمیٹی نے تفصیلی غور کے بعد متفقہ طور پر اس تجویز کو منظور کرلیا۔ کمیٹی ارکان نے ہدایت دی کہ ٹیکس کو اس طرح لاگو کیا جائے کہ پیسہ ملک سے باہر نہ جائے اور قومی خزانے کو اس سے فائدہ ہو۔
اجلاس میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی پیش ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے سے جڑی ہوئی درآمدی اشیاء پر جو پابندی لگائی گئی ہے اس سے تعمیراتی شعبہ کافی متاثر ہوگا، تعمیرات میں جو درآمدی چیزیں استعمال ہوتی ہیں ان پر پابندی ختم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 6 بڑے ہوٹلز بننے جا رہے ہیں، اگر پابندی نہیں ہٹتی تو یہ منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں، ریئل اسٹیٹ انڈسٹری میں فائلر پر ایڈوانس ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد جبکہ نان فائلر کیلئے 2 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کردیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے گزارش کی کہ فائلر کیلئے ٹیکس ایک فیصد ہی رہنے دیا جائے جس کے بعد کمیٹی نے ایف بی آر حکام کو تجویز پیش کی کہ ریئل اسٹیٹ میں فائلر کیلئے ایڈوانس ٹیکس ایک فیصد سے نہ بڑھایا جائے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر موبائل فونز پر لگائی جانے والی لیوی کی بھی منظوری دی۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس سے تقریباً 670 ملین روپے کا ریوینیو جنریٹ ہونے کی اُمید ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں ہر تیسرا شخص شوگر کا مریض ہے، بیوریجز کے استعمال سے موٹاپا، دل کے امراض اور کینسر کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں بیوریجز پر ٹیکس بہت کم ہے، بھارت میں بیوریجز پر 40 فیصد ٹیکس ہے، سعودی عرب نے بیوریجز پر ٹیکس بڑھایا تو لوگوں کی صحت بہتر ہوئی، پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان میں چینی والے تمام مشروبات پر 20 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سوڈا پر 13 فیصد ٹیکس ہے جبکہ جوسز پر کوئی ٹیکس نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس تب عائد ہوسکتا ہے جب ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام رائج ہو، ہمیں بیوریجز پر ٹریک اینڈ ٹریس نظام رائج کرنے میں ایک سال لگے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تجویز تو ہمارے فائدے میں ہے مگر کمیٹی کو انڈسٹری کا مؤقف بھی سننا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ تو اچھا کام ہے کہ ان چینی والی مشروبات پر ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ لوگوں کی جان محفوظ رہے، یہ عوام کی خدمت ہے، کمیٹی اس تجویز کی تائید کرتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں مشروبات کی انڈسٹریز کے نمائندوں اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کو دوبارہ طلب کرلیا، دونوں فریقین کو سن کر اس حوالے سے تجویز پیش کریں گے۔
ٹیکس حکام نے بتایا کہ سالانہ 30 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن پر 2 فیصد اضافی ٹیکس لگے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یہ ٹیکس 30 کروڑ روپے سے اضافی آمدن پر عائد کیا جائے جس پر ٹیکس حکام نے کہا کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو آئندہ اس پر نظرثانی کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ ہماری حکومت نے بینکوں پر 3 سال کیلئے سپر ٹیکس لگایا تھا جو آج بھی جاری ہے، جس پر ٹیکس حکام نے بتایا کہ اس سال اس ٹیکس کو نئے ٹیکس میں ضم کردیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ ایف بی آر اب گریجویٹی پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز دے رہا ہے۔ ٹیکس حکام کا کہنا تھا کہ گریجویٹی ادا کرنے والی کمپنی کا ٹیکس کریڈٹ ایک کروڑ روپے سے کم کرکے 50 لاکھ کرنے کی تجویز ہے، گریجویٹی وصول کرنیوالے کی آمدن ہے اس کو ٹیکس ہونا ہے، ٹیکس یا کمپنی سے لیں یا ریٹائرڈ ہونیوالے شخص کی آمدن سے۔ جس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس تجویز کو بہتر بناکر لائیں آپ کی تجویز قابل عمل نہیں۔









